کتنا دشوار ہے اس دور میں سچا ہونا

غزل

کتنا دشوار ہے اس دور میں سچا ہونا
خود سے لڑنا ہے یہاں، سب کے لیے اچھا ہونا

ایک تجھ کو ہی میسر ہے مری ذات تمام
میرے ذمے ہے تری یاد میں یکتا ہونا

خونِ دل دے کے کیا ہے جسے روشن ہم نے
کتنا مہنگا پڑا اس دیپ کا شعلہ ہونا

آبلے پاؤں کے گننے لگے رستے والے
کس کو فرصت تھی مرے ساتھ برہنہ ہونا

میں نے اک عمر گزاری ہے ملامت سہہ کر
تب کہیں آیا مجھے تیرا شناسا ہونا

ہائے وہ وقت کہ جب تو نے کہا تھا ہنس کر
کتنا دلکش ہے ترا درد میں تنہا ہونا

خاک میں مل کے بھی ہم نے تو بھرم رکھا ہے
تھا تری بزم کی رونق کا تقاضا ہونا

اہلِ دنیا کو بھلا کیا ہے خبر اے نعیم
کس قدر تلخ ہے احساس کا زندہ ہونا

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top