(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تخیل اور دقت کا سنگم
ایک لکھاری محض الفاظ کا جوڑ توڑ کرنے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسا معمار ہے جو خیالات کی اینٹوں سے ایک دنیا تعمیر کرتا ہے۔ مگر یہ دنیا نہ صرف خوبصورت ہونی چاہیے بلکہ متوازن اور حقیقت پر مبنی بھی۔ اسی لیے ایک لکھاری کو شاعر کی سی دقت اور سائنسدان کی سی تخیل پسندی درکار ہوتی ہے—کیونکہ یہی امتزاج اس کے قلم میں وہ قوت پیدا کرتا ہے جو دلوں کو چھو لے اور ذہنوں کو جھنجھوڑ دے۔
شاعر کی دقت، یعنی باریک بینی، حساسیت اور اظہار کی لطافت، لکھاری کے الفاظ میں وہ گہرائی پیدا کرتی ہے جو قاری کے جذبات کو چھو سکے۔ الفاظ کے چناؤ سے لے کر جملوں کی ترتیب تک، ایک سچے لکھاری کو وہی احتیاط درکار ہوتی ہے جو ایک شاعر اپنے اشعار میں برتتا ہے۔ ایک بے محل لفظ، ایک بے ربط جملہ یا ایک غیر متوازن خیال، تحریر کی تاثیر کو کمزور کر سکتا ہے۔
دوسری طرف، سائنسدان کی تخیل پسندی لکھاری کے لیے ایک لازمی وصف ہے، کیونکہ وہی تخیل ہے جو کسی عام منظر میں پوشیدہ کہانی کو دریافت کرتا ہے، کسی معمولی واقعے میں ایک آفاقی حقیقت کو دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے، اور کسی روزمرہ لمحے کو ایک ایسی تحریر میں ڈھال دیتا ہے جو صدیوں تک زندہ رہ سکے۔ تخیل کے بغیر لکھاری محض ایک مؤرخ بن کر رہ جاتا ہے، جو واقعات کو نقل تو کر سکتا ہے مگر ان میں زندگی نہیں پھونک سکتا۔
یہی دو اوصاف، یعنی حساس باریکی بینی اور وسعتِ تخیل، ایک لکھاری کو محض الفاظ کا کاریگر نہیں بلکہ ایک تخلیق کار بناتے ہیں۔ وہ نہ صرف کہانی کہتا ہے بلکہ اس میں زندگی کے وہ رنگ بھرتا ہے جو قاری کے ذہن میں دیرپا نقوش چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک اچھا لکھاری نہ تو محض شاعر ہوتا ہے اور نہ ہی صرف سائنسدان، بلکہ وہ ان دونوں کا سنگم ہوتا ہے—حساس بھی، متجسس بھی؛ باریک بین بھی، اور تخلیقی بھی۔
