(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہیں ایک سنسان جنگل میں، ایک درخت تنہا کھڑا تھا—خاموش، پرسکون، مگر زندگی سے بھرپور۔ اس کی جڑیں زمین کے گہرے رازوں میں اتر چکی تھیں، شاخیں آسمان کی وسعتوں کو چھو رہی تھیں، اور اس پر لگے پھل کتنے ہی مسافروں کی بھوک مٹا چکے تھے۔ جو تھکا ہارا آیا، اس نے اس کے سایے میں سکون پایا۔ جو بھوکا آیا، اس نے اس کے پھلوں سے پیٹ بھرا۔ مگر ان گزرنے والے مسافروں میں سے کسی نے کبھی اس درخت سے یہ سوال نہ کیا کہ وہ یہ سب کیوں کرتا ہے؟ کیوں دیتا ہے؟ کس کے لیے دیتا ہے؟
شاید اگر درخت زبان رکھتا، تو کہتا:
“میں اس لیے سایہ نہیں دیتا کہ مجھے تمہاری واہ واہ چاہیے، اور نہ اس لیے پھل دیتا ہوں کہ کوئی مجھے انعام دے۔ میں یہ سب اس لیے کرتا ہوں کیونکہ دینا میری فطرت ہے۔ میرا ہونا ہی دینا ہے۔ اگر میں دینا چھوڑ دوں، تو میں درخت کہلانے کے لائق نہیں رہوں گا۔”
مگر انسانوں کی دنیا میں نیکی کا یہ درخت اب ناپید ہو چکا ہے۔ یہاں نیکی ایک معاہدہ بن چکی ہے، ایک سودا، جو لالچ اور خوف کے درمیان کہیں معلق ہے۔ یہاں ہر سایہ ایک قیمت رکھتا ہے، ہر خیرات ایک مقصد سے مشروط ہوتی ہے، اور ہر “نیک عمل” کے بدلے کوئی نہ کوئی انعام چاہا جاتا ہے—دنیا کا ہو یا آخرت کا۔
درخت تو اپنی فطرت کے مطابق دیتا ہے، مگر انسان؟ انسان کا حال یہ ہے کہ اب نیکی کے ہر عمل کے پیچھے ایک سوال چھپا ہوتا ہے: “مجھے اس کے بدلے کیا ملے گا؟”
اگر جنت کا وعدہ نہ ہو، تو کیا لوگ پھر بھی خیرات کریں گے؟ اگر جہنم کا خوف نہ ہو، تو کیا پھر بھی کوئی غریب کے لیے کھانا خریدے گا؟ اگر ستائش کے میٹھے بول نہ ہوں، تو کیا پھر بھی کوئی دوسروں کے دکھ بانٹنے کا حوصلہ کرے گا؟
سوچو، اگر دنیا سے جنت اور جہنم کا تصور ختم کر دیا جائے، تو کیا باقی بچے گا؟ کیا نیکی کے لیے کوئی جگہ بچے گی؟ یا یہ دنیا ایک بے حس جنگل میں بدل جائے گی، جہاں ہر شخص اپنے فائدے کا شکار ڈھونڈے گا؟
نیکی، جو ایک وقت میں درخت کے سایے جیسی تھی—بے لوث، بے غرض، اور پرسکون—اب بازار کی جنس بن چکی ہے۔ یہاں نیکی کے ترازو لگے ہیں: ایک طرف خوف کا پلڑا ہے، اور دوسری طرف لالچ کا۔
یہ نیکی اب ایک بیوپار بن چکی ہے، جس میں ہر شخص اپنے “نیک عمل” کے بدلے نفع چاہتا ہے۔ کوئی دنیا کی واہ واہ چاہتا ہے، تو کوئی آخرت کی حوروں کے خواب دیکھتا ہے۔ نیکی کا اصل جذبہ کہیں کھو چکا ہے، اور اس کی جگہ ایک معاہدہ آ چکا ہے، جس میں دل سے زیادہ حساب کتاب چلتا ہے۔
مگر حقیقی نیکی وہی ہے جو درخت کی طرح ہو۔
نیکی وہ ہے جو دینے کے لیے دی جائے، بغیر کسی لالچ یا خوف کے۔ جو پھل دے، مگر اس کے بدلے ستائش نہ چاہے۔ جو سایہ دے، مگر انعام کی شرط نہ لگائے۔ جو خاموش ہو، مگر اس کی خوشبو دور تک پھیلتی ہو۔ جو گواہ نہ مانگے، جو داد کی محتاج نہ ہو، اور جو ہر حساب کتاب سے آزاد ہو۔
شاید یہ آسان نہیں۔ شاید یہ آج کے سوداگر انسان کے لیے بہت مشکل ہے۔ مگر یہی وہ نیکی ہے جو دنیا کو بہتر بنا سکتی ہے، جو زندگی کو خوبصورت بنا سکتی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ ہم کیا بننا چاہتے ہیں—ایک ایسا سوداگر، جو نیکی کے بدلے انعام چاہتا ہے؟ یا پھر وہ درخت، جو صرف دیتا ہے، کیونکہ دینا ہی اس کی اصل ہے؟
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ ایک معاہدہ بننا چاہتے ہیں یا ایک روشنی، جو بے غرض ہو کر دنیا کو روشن کرے؟