معافی کا زہر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

دھوکہ ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرتا نہیں، بلکہ رگوں میں گھل کر لہو کا حصہ بن جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معافی سکون دیتی ہے، مگر بعض زخموں کی معافی خود ایک زہر بن جاتی ہے—ایسا زہر جو انسان کو دھیرے دھیرے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

معاف کرنا شاید آسان ہو، مگر بھول جانا ناممکن۔ دھوکہ کھانے والا جب اپنے زخم پر ہاتھ رکھ کر کسی کو معاف کرتا ہے، تو وہ خود کو ایک امتحان میں ڈال دیتا ہے۔ کیونکہ دل کے نہاں خانے میں ایک بار دھوکہ برداشت کر لینے والا ہمیشہ ایک انجانے خوف میں جینے لگتا ہے—کیا یہ زخم دوبارہ دیا جائے گا؟ کیا معافی کا مطلب پھر سے کمزور پڑ جانا ہے؟

جو لوگ دھوکہ دے چکے ہوں، وہ اکثر معافی کو ایک دروازہ سمجھتے ہیں، جس سے وہ دوبارہ داخل ہو سکتے ہیں۔ وہ واپسی کی راہ دیکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ کچھ لوگ بھلے معاف کر دیں، مگر اپنی معصومیت دوبارہ نہیں پا سکتے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ معاف کر دو، مگر دوبارہ قریب مت آنے دو—کیونکہ کچھ رشتے صرف ایک بار ٹوٹنے کے لیے بنتے ہیں۔

محبت میں دھوکہ کھانے والا جب معاف کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنے زخم پر پھاہا رکھتا ہے، مگر یہ پھاہا ہمیشہ ایک نہ ایک دن ہٹتا ضرور ہے، اور زخم پھر سے رسنے لگتا ہے۔ کیونکہ کچھ دھوکے معافی کے مستحق نہیں ہوتے، اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں بھرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ انہیں ہمیشہ کھلا رکھا جائے—تاکہ وہ یاد دلاتے رہیں کہ زندگی بار بار ایک ہی دھوکہ نہیں کھاتی

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top