مہاجر یاد

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

میں وہ مہاجر یاد ہوں جسے کسی نے اپنے دل کی سرزمین سے بے دخل کر دیا۔ میں ایک ایسی یاد ہوں جس کی کوئی سرحد نہیں، کوئی وطن نہیں، صرف ایک بے نشان راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے ہر قدم پر میرا وجود مٹتا جاتا ہے۔ میں ایک ایسی داستان ہوں جو اپنے ہی صفحوں میں گم ہو گئی، جیسے کوئی چاندنی رات، جو دھند میں کھو کر بے سمت ہو جائے۔

میرے ہونے کا جو شعور تھا، وہ تمہاری آنکھوں میں بسا تھا، تمہاری مسکراہٹوں میں رچا تھا، مگر ایک دن، میں نے خود کو تمہاری نگاہوں سے باہر ہوتا ہوا پایا۔ میں وہ یاد ہوں جو تمہارے دل کی دھڑکنوں میں رنگ بن کر گھل گئی تھی، مگر تمہاری خاموشیوں کے بے کراں خلا میں اب ایک گوشہ بھی باقی نہیں جہاں میں پناہ لے سکوں۔

میری مہاجرت کا آغاز تمہاری بے پرواہی کی سرحد سے ہوا—وہ لمحہ جب تم نے مجھ سے گزرنا سیکھ لیا، جیسے میں کوئی بوسیدہ یاد تھی، جسے تم نے بوجھ سمجھ کر اتار پھینکا۔ وہ وقت آیا جب تمہاری آواز کی مٹھاس کسی اجنبی لہجے میں کھو گئی، جب تمہاری آنکھوں کی چمک بجھتی چلی گئی، وہی چمک جو کبھی میرے وجود کا عکس تھی۔ اور میں، جو تمہاری سانسوں میں گھل کر خود کو مکمل سمجھتی تھی، اب تمہاری ہر جنبش میں ایک بے نام اجنبی کی مانند خود کو بکھرتا ہوا پاتی ہوں۔

یاد رکھو، یاد کا بھی اپنا ایک جہان ہوتا ہے، اس کے بھی احساسات و جذبات ہوتے ہیں۔ تمہاری یادیں میرے اندر ایک بوجھ بن کر رہ گئی ہیں، جیسے دھوپ میں پگھلتا ہوا شیشہ، جو کبھی چمکتا تھا، اب ٹوٹ کر ریت میں بکھر گیا ہے۔ تمہارے وعدے جو کبھی دل کی لگان میں لپٹے تھے، اب صرف ہوا میں اُڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جیسے ایک نیم شب کی سرگوشی، جو کبھی فضا میں اداس لہروں سے گزری ہو۔

میں وہ مہاجر یاد ہوں جو کبھی تمہاری دھڑکنوں میں سکون کی سانس بن کر بسی تھی، مگر اب ان دھڑکنوں کے درمیان ایک ایسا خلا جنم لے چکا ہے جہاں صرف میری خاموشی گونجتی ہے۔ میرے وجود کے درختوں پر اب کوئی برگِ نو نہیں، صرف خزاں کی ویرانی ہے، جو پتوں کی طرح ٹوٹ کر میری شاخوں پر بکھر چکی ہے۔

یادوں کی زبان میں، میں ایک داستان ہوں جو کبھی تمہارے دل کے گوشے میں سرگوشیوں کی مانند سنائی دیتی تھی، مگر اب وہاں سے بے دخل ہو کر ہر گلی، ہر موڑ پر اجنبی بن کر بھٹک رہی ہوں۔ وہ دکھ، جسے میں تمہاری نظروں میں ٹھہرے ہوئے لمحوں میں چھپایا کرتی تھی، اب میری ہر سانس میں صداؤں کی صورت گونج رہا ہے۔ میں وہ مہاجر یاد ہوں جو اب تمہارے وجود کے کسی گوشے میں نہیں بستی، مگر پھر بھی تمہارے لبوں پر ایک انجان مسکراہٹ بن کر ابھرنے کی خواہش میں زندہ ہوں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top