(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
اگر سب کچھ مقدر ہے، تو پھر انسان کی کوشش کا کیا فائدہ؟ یہ سوال محض کسی فلسفی کی دماغی مشق نہیں، بلکہ انسانی شعور کی فطری پکار ہے—ایک اضطراب جو ہر حساس دل کو وقتاً فوقتاً جھنجھوڑتا ہے۔ کیا ہم سب ایک طے شدہ اسکرپٹ میں اداکار ہیں، جہاں ہر منظر پہلے سے لکھا جا چکا ہے؟ یا ہمیں کسی حد تک اپنی داستانِ حیات کو بدلنے، سنوارنے، اور تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے؟
یہ سوال محض منطق کا نہیں، وجدان کا بھی ہے۔ تقدیر، جو بظاہر خالقِ کائنات کے ہاتھوں میں ایک ریمورٹ کنٹرول کی مانند محسوس ہوتی ہے، اپنے باطن میں ایسی صامت تحریر ہے جس کی سطریں انسان کی سعی، نیت، اور دعاؤں سے دھیرے دھیرے ظاہر ہوتی ہیں۔ انسان کو عطا کردہ شعور، اسے محض ایک تماشائی بننے نہیں دیتا۔ وہ سوال کرتا ہے، راستہ تلاش کرتا ہے، کبھی گرتا ہے، کبھی اٹھتا ہے، مگر رکتا نہیں۔ یہی مسلسل جستجو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔
انسان کی سعی دراصل امکان کی سلطنت میں ایک رقص ہے۔ جیسے شطرنج کی بساط پر ہر مہرے کی ایک متعین چال ہے، مگر ان چالوں کے بے شمار مجموعے ممکن ہیں، ویسے ہی انسان کی زندگی بھی ایک عمومی “پروبیبلیٹی اسپیس” میں ایک متحرک تشکیلی سفر ہے۔ ان بے شمار ممکنات میں سے کون سی صورت ظاہر ہوتی ہے، یہ مقدر ہے۔ مگر وہ مقدر محض ایک روبوٹک عمل نہیں، بلکہ اس میں انسان کا ارادہ، اس کی نیت، اس کا جذبہ، اور اس کی سمجھ شامل ہوتی ہے۔ انسان خود بھی اپنے مقدر کی تخلیق میں شامل ہے، اور یہی اس کا اشرف المخلوقات ہونا ہے۔
قرآن نہایت وضاحت سے اعلان کرتا ہے:
“وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ”
یعنی انسان کے لیے وہی کچھ ہے، جس کی اس نے کوشش کی۔
یہ ایک ایسا آفاقی اصول ہے جو نہ صرف روحانیت بلکہ فطرت کے نظام میں بھی پیوست ہے۔ ہر بیج کو اگر زمین میں بویا جائے تو کچھ بیج ضائع ہوں گے، کچھ اگیں گے، کچھ کھاد بنیں گے۔ پانی برستا ہے تو اس کا کچھ حصہ دریا لے جاتے ہیں، کچھ زمین پی جاتی ہے، اور کچھ بادلوں میں واپس چلا جاتا ہے۔ انسان کے جسم میں بھی ہزاروں خلیے روز مرتے ہیں، مگر زندگی کا بہاؤ جاری رہتا ہے۔ یہی وہ “قانونِ ضیاع” ہے جو ہر زندہ نظام کی بنیاد ہے۔
یہ قانون صرف مظاہرِ فطرت تک محدود نہیں، بلکہ انسانی اعمال پر بھی محیط ہے۔ ہر کوشش کامیاب ہو، یہ ضروری نہیں، مگر ہر کوشش کا اثر ہوتا ہے۔ بعض اثرات فوراً ظاہر ہو جاتے ہیں، بعض وقت کے پردوں میں گم رہتے ہیں، اور بعض کسی اور زندگی، کسی اور انسان، یا کسی اور مقام پر اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔ انسان اگرچہ محدود وسائل اور علم رکھتا ہے، مگر اسے جو شعور عطا ہوا ہے، وہ اسے لاچار نہیں رہنے دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنی کوشش کے ذریعے نہ صرف اپنی تقدیر کو چھو سکتا ہے بلکہ اس کے کچھ اجزاء کو نئی جہت بھی دے سکتا ہے۔
صوفیاء اس مقام پر ایک لطیف نکتہ عطا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان کی ہر سچی سعی، ایک روحانی ارتقاء ہے، چاہے اس کا ظاہری نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ رب کی رضا کی طرف اٹھایا گیا ہر قدم، چاہے وہ گمراہوں کے طوفان میں بھی ہو، نور کی طرف ایک حرکت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نیت اگر پاک ہو، اور قدم اگر استقامت سے اٹھے ہوں، تو وہی کوشش عبادت کا درجہ پا لیتی ہے۔ یہی وہ سعی ہے جو انسان کو خالق کے قریب کرتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی عاجزی میں اپنی اصل پہچان پا لیتا ہے۔
بعض لوگوں کے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ گردش کرتا ہے: “اگر آخر میں ہونا وہی ہے جو لکھا ہے، تو کوشش کیسی؟” اس کا جواب اتنا ہی لطیف اور گہرا ہے جتنا یہ سوال خود ہے۔ ہونا وہی ہے جو لکھا ہے، مگر وہ لکھا ہوا ظاہر تب ہی ہوتا ہے جب انسان کوشش کرتا ہے۔ وہ تقدیر جو ابھی تک پوشیدہ ہے، وہ عالمِ غیب میں ہے؛ اور وہ انسان جسے ظہور کی دنیا میں زندہ رہنا ہے، اس کا کام ہے کہ وہ اس غیب کو اپنی کوشش سے ظاہر کرے، چھوئے، اور محسوس کرے۔
تقدیر ایک متحرک تشکیل ہے، کوئی جامد نوشتہ نہیں۔ یہ ایک جاری و ساری بہاؤ ہے جو شعور، ارادہ، سعی اور فضلِ الٰہی سے ہر لمحہ نیا رنگ اختیار کرتا ہے۔ اللہ کا علم اگرچہ ازلی ہے، مگر اُس نے انسان کو اختیار کا ایک محدود مگر معتبر دائرہ عطا کیا ہے، جس کے ذریعے وہ تخلیق کے رازوں میں شریک ہو سکتا ہے۔ گویا تقدیر لکھی ہوئی ہے، مگر اس تحریر کی سیاہی میں انسان کی محنت، دعا، آہ، اور اخلاص کی خوشبو شامل ہے۔
انسان کا کمال یہ نہیں کہ وہ نتیجہ حاصل کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جانفشانی سے کوشش کرے، چاہے انجام اس کے گمان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی میں اس کا امتحان، اسی میں اس کا ارتقاء، اور اسی میں اس کی معراج ہے۔ کامیابی کا معیار کسی انعام یا شہرت میں نہیں، بلکہ کوشش کی صداقت، نیت کی خلوص، اور ارادے کی استقامت میں ہے۔ وہی کوشش جو کسی چھوٹے سے کام میں بھی اللہ کی رضا کی نیت سے کی جائے، تقدیر کی بلند ترین پرتوں کو چھو سکتی ہے۔
زندگی کوئی مہر بند داستان نہیں، بلکہ ایک زندہ، سانس لیتی ہوئی تحریر ہے، جس کا ہر لفظ انسان اپنی سعی سے لکھتا ہے۔ ہر دن، ہر لمحہ، ہر انتخاب—ایک نئی تقدیر کا در کھولتا ہے۔ انسان، اس کائنات میں ایک باشعور ذرہ ہے، جو اپنے اختیار، دعا، قربانی، اور ارادے سے وہ کچھ تخلیق کر سکتا ہے جو کاتبِ تقدیر کے علم میں تو تھا، مگر اس کی روحانی چھب اُسی وقت ظاہر ہوئی جب انسان نے سعی کی، آہ کی، اور اللہ کی طرف پلٹ کر کہا:
“اے رب! میں نے اپنی کوشش کی، اب تیری رضا کا طالب ہوں۔”