(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
“رات کی نیلگوں چادر میں ایک ستارہ ٹمٹما رہا تھا، گویا کسی خاموش فریاد کا استعارہ ہو۔ زمین سے دیکھنے والے نے دستِ تمنا بلند کیا اور زیرِ لب کہا، “یہ ستارہ میرے قریب کیوں نہیں؟ اگر یہ میرے ہاتھ میں آ جائے تو میں اسے اپنے دل کے نہاں خانوں میں محفوظ کر لوں!”
فلک کی وسعتوں میں ایک سرگوشی گونجی، “جو دور ہے، وہی روشنی دیتا ہے! اگر یہ تمہارے ہاتھ میں آ جائے، تو اس کا نور کھو جائے گا، اور تمہارے حصے میں فقط راکھ رہ جائے گی!”
“خواہشوں کی دنیا بھی کچھ ایسی ہی ہے!”
“جو چیزیں طلب کے باوجود نہیں ملتیں، وہ درحقیقت ہمارے مقدر کی سلامتی کی پہرہ دار ہوتی ہیں۔ زندگی ایک دریا کی مانند ہے جو ہمیشہ اپنے بہاؤ میں رہتی ہے، مگر کبھی کبھار کچھ قطرے کناروں پر ٹھہر جاتے ہیں— جیسے ادھورے خواب، جیسے نامکمل محبتیں، جیسے بےقرار دعائیں!”
“مگر کیا وہ قطرے ضائع ہو جاتے ہیں؟ نہیں، وہی قطرے مٹی میں جذب ہو کر درختوں کو سیراب کرتے ہیں، نئے بیجوں کو جنم دیتے ہیں، اور زندگی کی ایک نئی ترتیب بُننے لگتے ہیں!”
“کبھی کسی کمسن پرندے کو دیکھو جو پہلی بار اڑنے کی تمنا میں اپنے پر تول رہا ہو۔ وہ بار بار آسمان کی طرف لپکتا ہے، مگر زمین پر گر جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ اگر قدرت نے اسے فوراً اڑنے کی صلاحیت دے دی، تو شاید وہ کسی طوفان کی زد میں آ کر ہمیشہ کے لیے گر جائے!”
“اس کا وقت آنا باقی ہے، اور وقت ہی وہ استاد ہے جو کسی بھی تحفے کو سنبھالنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے!”
“انسان اکثر اپنی محدود نگاہ سے فیصلے کرتا ہے، مگر جو نہیں ملا، وہ چھن گیا— ایسا نہیں ہوتا!”
“جو نہ ملا، وہ کسی اور بڑی حکمت کا حصہ تھا! جو بیج زمین میں دفن ہو کر صبر کرتا ہے، وہی ایک دن تناور درخت بن کر اپنی عظمت ثابت کرتا ہے۔”
“شاید وہ رزق جو تمہیں نہ ملا، تمہیں آزمائش میں ڈال دیتا۔ شاید وہ محبت جو تمہارے حصے میں نہ آئی، تمہارے قلب کی روشنی چھین لیتی۔ شاید وہ راستہ جو تمہیں نصیب نہ ہوا، کسی گمراہی کی طرف مڑ جاتا۔”
“کائنات میں کوئی خواہش رد نہیں ہوتی، بلکہ وہ کسی نئے زاویے میں ڈھل کر سامنے آتی ہے۔ بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے، سمجھنے والا دل چاہیے۔”
“جو نہ ملا، وہ ملنے سے زیادہ قیمتی تھا، کیونکہ وہ رب کی چاہ تھی، اور رب کی چاہ ہمیشہ تمہاری چاہ سے بہتر ہوتی ہے!”
