نقاب اٹھا تھا دھواں بھر جانے کے بعد

غزل

نقاب اٹھا تھا دھواں بھر جانے کے بعد
پوچھنے آئے وہ طوفاں گزر جانے کے بعد

کانپتے ہاتھوں سے آ کر کرے گا وہ سلام
نشہ شرابِ حُسن کا اتر جانے کے بعد

اس لئے زخم اپنے میں کریدتا رہتا ہوں
کیا بچے گا مرے پاس یہ بھر جانے کے بعد

جس کے نام پہ ناداں جیئے جاتے ہیں
زندگی تو ملتی ہے مر جانے کے بعد

دنیا جنت ہے بگڑے ہوئے لوگوں کی
راز یہ کھلا نعیم سدھر جانے کے بعد

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top