نرگسیت پسند پارٹنر کے ساتھ زندگی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

حقیقت، چیلنجز اور بچاؤ کے راستے

نرگسیت پسندی ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے برتر اور زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اگر کسی شخص کا پارٹنر نرگسیت پسند ہو تو یہ رشتہ جذباتی استحصال، بے حسی اور عدم توازن کا شکار ہو سکتا ہے۔ نرگسیت پسند افراد اپنی ضروریات اور جذبات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جبکہ دوسروں کے احساسات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں، مسلسل تعریف اور توجہ کے طلب گار ہوتے ہیں، ہمدردی کا فقدان رکھتے ہیں، اور دوسروں کو ذہنی و جذباتی طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ زندگی گزارنے والا شخص اکثر خود کو کمزور، بے بس اور الجھن کا شکار محسوس کرتا ہے۔

نرگسیت پسند پارٹنر کے ساتھ زندگی گزارنے کے کئی چیلنجز ہوتے ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ جذباتی استحصال اور عدم مساوات ہے، جہاں رشتہ ہمیشہ یک طرفہ ہوتا ہے۔ نرگسیت پسند افراد اپنے پارٹنر کی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرا شخص اپنی اہمیت کھونے لگتا ہے، ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی خود اعتمادی کمزور ہو جاتی ہے۔ نرگسیت پسند افراد اکثر “گیس لائٹنگ” کا حربہ استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے وہ اپنے پارٹنر کو اس حد تک کنفیوز کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ اور جذبات پر شک کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ، نرگسیت پسند افراد کبھی بہت مہربان اور محبت کرنے والے لگتے ہیں، اور کبھی بالکل سرد اور لاتعلق ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے پارٹنر کے اندر بے یقینی اور جذباتی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ وہ تنقید برداشت نہیں کر سکتے اور دوسروں کو کمتر ثابت کرکے خود کو برتر محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے پارٹنر کی خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے۔

ایسے حالات میں نرگسیت پسند پارٹنر کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے کچھ اہم اقدامات کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے حقیقت کو قبول کرنا ضروری ہے کہ نرگسیت پسند افراد بدلنے والے نہیں ہوتے، اس لیے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا چاہیے۔ اپنی حدیں واضح کرنا بھی بہت اہم ہے، تاکہ نرگسیت پسند فرد جذباتی دباؤ ڈال کر اپنے پارٹنر کو ذہنی طور پر قابو میں نہ لے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، خود اعتمادی کو بحال رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنی ذات پر یقین رکھنا چاہیے اور نرگسیت پسند فرد کی باتوں کو حرف آخر نہیں سمجھنا چاہیے۔ جذباتی استحصال کو پہچاننا بھی ضروری ہے تاکہ گیس لائٹنگ یا ذہنی کنٹرول کا شکار ہونے سے بچا جا سکے۔ اگر ضروری ہو تو کسی ماہرِ نفسیات یا تھراپسٹ کی مدد لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ اس دباؤ سے نکلنے میں آسانی ہو۔

بعض اوقات نرگسیت پسند پارٹنر کے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر اگر وہ مسلسل جذباتی اور ذہنی نقصان پہنچا رہا ہو۔ ایسے میں رشتے سے نکلنے کا فیصلہ کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ اپنی ذہنی اور جذباتی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ نرگسیت پسند افراد کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتا، لیکن اگر انسان حقیقت کو تسلیم کرے، اپنی حدود کا تعین کرے اور اپنی ذہنی صحت کو اولین ترجیح دے، تو وہ جذباتی استحصال سے بچ سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کی قدر کرے اور یہ سمجھے کہ وہ کسی کے استحصال کے لیے نہیں، بلکہ محبت، عزت اور سکون کے لیے پیدا ہوا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top