نورِ وحدت اب رگِ جاں میں سمایا جائے ہے

غزل

نورِ وحدت اب رگِ جاں میں سمایا جائے ہے
قطرہ اپنی اصل کی جانب بلایا جائے ہے

منزلِ مقصود اب خود ہے قدم کی منتظر
جو تری راہوں میں مٹ جائے، بنایا جائے ہے

پردہِ کثرت سے باہر آ کے دیکھو تو سہی
کیسے ہر اک عکس میں اس کو دکھایا جائے ہے

بزمِ ہستی میں کوئی تو سازِ پنہاں ہے ضرور
ورنہ کیوں ہر سمت اک نغمہ سنایا جائے ہے

خاکِ ہستی سے پرے جب عقل حیراں رہ گئی
اس مقامِ بے خودی پر دل لگایا جائے ہے

عشق کی بھٹی میں جب تپتا ہے کندن کی طرح
تب کہیں جا کر بشر کو آزمایا جائے ہے

راہِ حق کے اس سفر میں اے نعیم اللہ دیکھ
َ جذبِ سولی کو بھی سینے سے لگایا جائے ہے

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top