نورِ وحدت نے ہمیں ایسا چھپایا ہوگا
“کون آئے گا یہاں، کوئی نہ آیا ہوگا”
بزمِ ہستی میں جو ہے جلوہ نما چار طرف
اس نے خود کو ہی پسِ پردہ بسایا ہوگا
جس کی جنبش سے رواں ہے یہ نظامِ عالم
اس نے ہی قلبِ پریشاں کو جگایا ہوگا
بندگی کا ہے یہی اوج کہ مٹ جائے وجود
جس نے ہستی کو گنوایا، اسے پایا ہوگا
وہ جو اک نور سا روشن ہے تری روح کے پار
اس نے ہی دشتِ تمنا کو بنایا ہوگا
ہم جو چپ چاپ سے بیٹھے ہیں کسی گوشے میں
ہم کو اس قرب کے عالم نے رلایا ہوگا
بیکسی میں بھی جو اک آس لگی رہتی ہے
نام اس کا ہی مرے لب پہ تو آیا ہوگا
تجھ سے پہلے بھی یہاں کتنے ہی گزرے ہیں نعیم
وقت کی دھول نے ہر نقش مٹایا ہوگا
