پرچھائیوں کا خوف

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک کھلے میدان کی طرح ہے، جہاں ہر شخص اپنے راستے پر چل رہا ہے، مگر کچھ لوگ اپنے پیچھے پڑی پرچھائیوں سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ یہ پرچھائیاں اصل میں ان آوازوں کا عکس ہوتی ہیں جو دوسروں کی رائے، تنقید، یا فیصلوں کی صورت میں ہمارے دل و دماغ پر منڈلاتی رہتی ہیں۔

ہم ایک ایسی دنیا میں جیتے ہیں جہاں نظریں ہمیں تولتی ہیں، الفاظ ہمارے وجود کو تراشتے ہیں، اور فیصلے ہماری سمت متعین کرتے ہیں۔ جیسے کوئی درخت، جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لرزتا ہے، ہم بھی دوسروں کی رائے کے جھونکوں میں اپنی جڑوں پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ کہیں کوئی ہمیں کمزور نہ سمجھ لے، کہیں ہماری ناپسندیدگی کا اعلان نہ ہو جائے، کہیں کوئی ہمیں بے وقعت نہ کر دے—یہ خدشات ہمیں اپنی اصل سے دور لے جاتے ہیں۔

مگر ایک لمحے کو رک کر سوچیے، کیا یہ پرچھائیاں واقعی ہماری حقیقت بدل سکتی ہیں؟ جیسے شام ڈھلتے ہی ہر پرچھائی لمبی ہو جاتی ہے، مگر سورج غروب ہونے پر وہ خود ہی معدوم ہو جاتی ہے، ویسے ہی لوگوں کی رائے کا شور بھی وقت کے ساتھ تحلیل ہو جاتا ہے۔ ہم جتنا ان آوازوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، اتنا ہی وہ ہمیں گھیر لیتی ہیں، مگر جیسے ہی ہم ان کا سامنا کر کے اپنا راستہ چن لیتے ہیں، وہ بے معنی ہو جاتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی رائے ایک آئینے کی طرح ہے، جو کبھی ہمیں ہمارے اصل چہرے کی جھلک دکھاتی ہے، اور کبھی وہ عکس جو وہ خود دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر آئینہ دیکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم خود کو بدل دیں—ہم بس اپنی حقیقت کو جان کر، خود کو قبول کر کے، اور اپنی راہ پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

زندگی تبھی مکمل ہوتی ہے جب ہم پرچھائیوں سے ڈرنا چھوڑ دیں، اور اپنی روشنی کو تسلیم کر لیں۔ کیونکہ اصل طاقت اسی میں ہے کہ ہم اپنے وجود کو خود پرکھیں، نہ کہ دوسروں کے پیمانوں پر۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top