پردہ: فطری محبت اور سماجی توازن

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی فطرت میں محبت ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل ہے۔ خالقِ کائنات نے انسان کے دل میں محبت، کشش اور تعلق کی خواہش کو ودیعت کیا ہے، اور یہی جذبہ اسے رشتوں میں باندھتا اور زندگی کو معنویت بخشتا ہے۔ لیکن محبت کا آزادانہ اظہار اور اس کی حدود کا تعین ایک اہم سماجی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔

یہ ایک سادہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرہ اپنے مخصوص اقدار اور اصولوں کے تحت زندگی گزارتا ہے۔ پردہ بھی ان اصولوں میں سے ایک ہے، جو محض کسی جبر یا خوف کی پیداوار نہیں بلکہ ایک متوازن اور باعزت زندگی گزارنے کا فطری اور مہذب طریقہ ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں کہیں بھی معاشرتی حدود کا لحاظ ختم ہوا، وہاں تعلقات کی پاکیزگی متاثر ہوئی، عزت و احترام کے پیمانے بدلے، اور بے راہ روی نے رشتوں کی اقدار کو مجروح کیا۔

یہ کہنا کہ محبت کو چھپانے کی ضرورت نہیں، ایک سطحی استدلال ہے۔ محبت ایک مقدس جذبہ ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے اظہار کے لیے ہر حد پار کر دی جائے۔ فطرت نے خود کچھ اصول وضع کیے ہیں۔ اگر ہر چیز کو ظاہر کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوتا تو رات کا پردہ دن پر نہ ڈالا جاتا، سمندروں کی گہرائیاں رازوں سے بھری نہ ہوتیں، اور انسان کی سوچیں ہمیشہ زبان پر نہ ہوتیں۔ کچھ چیزوں کا چھپانا ہی ان کی عظمت اور تقدس کو بڑھاتا ہے۔

پردہ صرف جسمانی حدود کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک فکری اور روحانی تحفظ کا نظام بھی ہے۔ یہ مرد اور عورت، دونوں کو عزت و وقار کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہ عورت کو ایک شے نہیں، بلکہ ایک باعزت ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کی شناخت اس کی ذہانت، کردار اور اخلاق سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف اس کی جسمانی کشش سے۔

یہ دلیل کہ پردہ صرف معاشرتی دباؤ کا نتیجہ ہے، حقیقت سے بعید ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں پردے جیسی روایات نہ پائی جاتیں۔ اگر یہ صرف والدین کے خوف کا نتیجہ ہوتا تو خود خواتین پردے کی حمایت نہ کرتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پردہ فطری طور پر تحفظ، عزت اور رشتوں میں توازن کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔

محبت کو اظہار کی ضرورت ضرور ہوتی ہے، مگر بے مہار اظہار اکثر محبت کو بے وقعت کر دیتا ہے۔ جس طرح قیمتی موتیوں کو کسی خوبصورت ڈبے میں رکھا جاتا ہے، اسی طرح پاکیزہ جذبات اور رشتوں کو بھی ایک محفوظ حصار میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ محبت اگر فطری ہے، تو حیاء بھی فطری ہے۔ حیاء وہی پردہ ہے جو محبت کو پاکیزہ اور بلند رکھتا ہے۔

اصل بات یہ نہیں کہ پردہ محبت کی راہ میں رکاوٹ ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پردہ محبت کو وقار، عزت اور تقدس عطا کرتا ہے۔ جب جذبات کو مہذب دائرے میں رکھا جاتا ہے، تبھی وہ دیرپا اور بامعنی بنتے ہیں۔ آزاد محبت کا تصور جتنا خوشنما لگتا ہے، عملی دنیا میں اس کے نتائج اتنے ہی تلخ ہو سکتے ہیں۔ ہر محبت کا حق ہر کسی کو نہیں دیا جا سکتا، ورنہ محبت، محبت نہ رہے، بلکہ ایک بازار کی شے بن جائے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام عظیم مذاہب، اخلاقی فلسفے اور مہذب معاشرتیں پردے یا حیا کے کسی نہ کسی تصور کو تسلیم کرتی ہیں۔ کیونکہ محبت بے لگام ہو کر بربادی لاتی ہے، اور حیا اسے ایک خوبصورت، مضبوط اور قابلِ احترام رشتے میں ڈھالتی ہے۔

لہٰذا، محبت اور پردہ ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ پردہ محبت کو بے قدری سے بچاتا ہے، اور محبت پردے کے اندر رہ کر بھی اپنی روشنی پھیلاتی ہے۔ اصل مسئلہ فہم و فراست اور حکمت کا ہے۔ پردہ جبر نہیں، بلکہ وہ خوبصورت راز ہے جو محبت کو عامیانہ بننے سے روکتا ہے اور اسے تقدس عطا کرتا ہے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے!

حُسن ہو جائے عریاں ،تو عشق میں رکھا ہی کیا ہے
یہ تو تجسس ہے فقط، قبا بند رہنے تک

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top