پرانا لباس اور اجنبی چہرے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک بازار ہے، جہاں ہر روز لوگ نئے رنگ، نئے چہرے، اور نئے تعلقات کا لباس پہنتے ہیں۔ ہر دن ایک نیا نقاب، ہر ملاقات ایک نیا روپ، ہر گفتگو ایک نیا لہجہ۔ یہاں کوئی بھی ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، جیسے دریا کا پانی ہر لمحہ بدلتا ہے، جیسے آسمان پر بادل پل بھر میں نئی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

مگر ہم…

ہم وہ ہیں جو پرانے زخموں کی سلائی سے بُنے ہوئے ایک ہی لباس میں قید ہیں۔ وہ لباس جس پر جدائی کے دھاگے جڑے ہیں، خاموشی کی شکنیں ثبت ہیں، اور وفا کی مٹی جمی ہوئی ہے۔ ہم نے چاہا کہ اسے بدل دیں، مگر ہر نیا لباس اجنبی لگا، ہر نئی چادر کسی اور کی خوشبو میں بسی ہوئی ملی۔

ہم نے لوگوں کو بدلتے دیکھا، جیسے موسم بدلتے ہیں، جیسے پت جھڑ میں درخت اپنے پتے گرا دیتے ہیں—بےتکلفی کے سبز پتے، چاہت کے زرد پڑتے جذبات، اور پھر اجنبیت کی برف اوڑھ لینا۔ مگر ہم؟ ہم وہ شجر ہیں جو ایک ہی موسم میں قید ہو گئے، جو ہر تعلق کے جھڑ جانے کے بعد بھی اسی مٹی میں جڑے رہے۔ ہمارے اندر وفا کا رس تو تھا، مگر ارد گرد کی ہوا زہر آلود ہو چکی تھی۔

یہ دنیا انہیں راستہ دیتی ہے جو ہر موڑ پر خود کو نیا بنا لیں، جو ہر لمحے ایک نیا چہرہ پہنیں، جو اپنی سچائی کو مصلحت کے رنگ میں رنگ دیں۔ اور ہم؟ ہم پرانے چراغوں کی مانند ہیں، جن کی لو کمزور سہی، مگر اصل ہے، جن کی روشنی دھیمی سہی، مگر اپنا وجود رکھتی ہے۔

کاش ہم بھی تعلقات کے نئے لباس پہننا سیکھ لیتے، لمحہ بہ لمحہ خود کو بدلنا جان لیتے، مگر شاید یہی ہماری کمزوری بھی ہے اور ہماری پہچان بھی—کہ ہم اب بھی وہی پرانا لباس لیے پھرتے ہیں، جس پر وقت کی گرد ضرور جمی ہے، مگر اس میں سچائی کی خوشبو باقی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top