(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات میں جو کچھ ضائع ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہ درحقیقت کسی گہرے اور نادیدہ نظم کا حصہ ہے۔ ضیاع صرف ایک سطحی مشاہدہ ہے؛ اس کے باطن میں ایک روحانی معیشت کام کر رہی ہے جو خالص کو چُننے، ناپختہ کو گرانے، اور لطیف کو ظاہر کرنے کا مسلسل عمل ہے۔ ایک بیج مٹی میں دفن ہو جاتا ہے، مگر نمودار نہیں ہوتا۔ ایک قطرہ بارش زمیں میں جذب ہو جاتا ہے، مگر درخت کو سیراب نہیں کرتا۔ ایک دعا کی جاتی ہے، مگر جواب خاموشی میں لپٹا ہوا ملتا ہے۔ ایک عمل کیا جاتا ہے، مگر اس کا نتیجہ متوقع سے مختلف نکلتا ہے۔ سطحی نگاہ اسے “ضائع” کہتی ہے، لیکن باطنی شعور جانتا ہے کہ یہ سب کسی لطیف تر حکمت کا ابتدائی خاکہ ہے۔
تخلیق کی فطری منطق یہ ہے کہ وافر پیداوار سے چنیدہ شے برآمد ہو۔ لاکھوں بیج فضا میں گرتے ہیں تاکہ چند پودے جنم لیں۔ ہزاروں نر خلیے حرکت کرتے ہیں تاکہ ایک نئی جان کا در کھلے۔ ذہن میں خیالات کی بھیڑ ہوتی ہے تاکہ ایک مکمل و جامع فکر تخلیق ہو۔ یہی ضیاع دراصل وہ چھانٹی ہے جس کے ذریعے حق، جمال اور نور اپنے حقداروں کو ڈھونڈتے ہیں۔ کائناتی فطرت کی یہ خاموش منطق دراصل قانونِ انتخاب و صفائی ہے، جو اضافی کو ترک کر کے اصل کو باقی رکھتا ہے۔ یہ ایک گہرا اصول ہے جو صرف مادیات پر نہیں، بلکہ افکار، ارواح اور اعمال پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں خالقِ کائنات فرماتا ہے: “یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ”۔
وہ (اللہ) تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے۔
(الاحزاب: 43)
یہ اخراج محض ظاہری اندھیروں سے روشنی میں آنا نہیں، بلکہ ایک باطنی تطہیر کا عمل ہے۔ انسان کی زندگی میں جو کچھ بظاہر ناکامی، رکاوٹ یا گمشدگی ہے، وہ دراصل اُس نور کی طرف ایک سفر ہے جو ہر شکست کے پیچھے پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہر ناقبول دعا، ہر ادھورا عمل، ہر رائیگاں کوشش ایک ایسی روحانی چھلنی سے گزرتی ہے جو انسان کی ذات کو صیقل کرتی ہے، اُس کے شعور کو نکھارتی ہے، اور اُس کے باطن میں وہ نور اُبھارتی ہے جو کسی ایک واقعے میں نہیں، بلکہ پوری زندگی کی حکمت میں ظاہر ہوتا ہے۔
صوفیاء اس مقام پر نہایت باریک فہم کے ساتھ فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم سے ہو سکا اور تم نے کیا، وہ تمہارے لیے جزا ہے؛ اور جو تم سے نہ ہو سکا، وہ تمہیں تمہاری حدود کا شعور دے گیا، تاکہ تم فنا کے ذریعے بقا کی حقیقت کو پہچانو۔ انسان کی ان کوششوں میں جو کسی مقام تک نہ پہنچ سکیں، ایک روحانی شکست پنہاں ہوتی ہے جو نفس کے غرور کو مٹا کر روح کو رب کے سامنے سجدہ ریز کر دیتی ہے۔ جب انسان کی تدبیر تھک جاتی ہے، تب وہ تقدیر کی گود میں گرتا ہے، اور وہ لمحہ اس کے روحانی سفر کا آغاز بنتا ہے۔
اللہ کا نظام صرف عدل پر قائم نہیں، بلکہ اس کی بنیاد رحمت پر رکھی گئی ہے۔ جہاں انسان ضیاع دیکھتا ہے، وہاں خدا ذخیرہ کرتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ”۔
بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
(التوبہ: 120) یعنی وہ تمام محنتیں، آہیں، نیتیں، آنکھوں سے چھپے ہوئے آنسو اور دل کے نادیدہ بوجھ جو کسی کے علم میں نہ آئیں، وہ سب اس رب کے علم میں محفوظ ہیں جس کا نام ستّار بھی ہے، اور شکور بھی۔ وہ ان چھپی ہوئی سعیوں کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ وقتِ مناسب پر اُنہیں نفع، نور، تسکین یا قبولیت میں بدل دیتا ہے۔
انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، وہ فطرت کی کائناتی اقتصادیات میں ضم ہو جاتا ہے۔ بظاہر جو ضائع ہوتا ہے، وہ اصل میں اس کی روحانی زرخیزی میں ایک نادیدہ بیج بن کر دفن ہو جاتا ہے۔ وہ دعا جو قبول نہ ہوئی، وہ منصوبہ جو ناکام ہوا، وہ محبت جو ادھوری رہی، وہ جدوجہد جو نتیجہ نہ لا سکی—یہ سب روحانی کائنات میں کسی مقصد کے لیے محفوظ کر دی جاتی ہیں۔ جب وقت آتا ہے، وہ مقدر میں کسی نئی صورت کے ساتھ لوٹتی ہیں، یا انسان کے باطن کو اتنا نکھار دیتی ہیں کہ وہ خود اس مقام پر آ جاتا ہے جہاں اُسے نتائج کی تمنا کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔
لہٰذا قانونِ ضَیاع کوئی ناکامی کا اعلامیہ نہیں بلکہ تکمیل کا دروازہ ہے۔ یہ وہ منطق ہے جو انسان کی ہر سعی کو کسی نادیدہ جہت میں منتقل کر دیتی ہے، چاہے وہ فوری طور پر کسی مادی ثمر کے بغیر ہو۔ انسان کو ہر بار وہ کچھ نہیں ملتا جس کے لیے وہ محنت کرتا ہے، مگر وہ خود ایسا بن جاتا ہے جو اللہ کے نزدیک محبوب ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تقدیر، کوشش اور ضیاع، تینوں ایک نورانی دائرے میں گھومتے ہوئے مرکزِ شعورِ عبد اور رحمتِ رب پر متحد ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں علم، عشق اور تسلیم ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں، اور انسان جان لیتا ہے کہ اس کی ہر ناکامی، دراصل ایک باطنی تکمیل کی بشارت تھی۔