قصرِ ہستی میں ہے نقشِ رائیگاں کی جستجو
ذرہ ذرہ بن گیا ہے اک نشاں کی جستجو
عقل کی دہلیز پر تو مصلحت کا راج ہے
اب دلِ وحشی میں ہے وہمِ گماں کی جستجو
خامشی کے بطن سے پھوٹے گی اک تازہ صدا
حرفِ حق کو ہے کسی سحرِ بیاں کی جستجو
سیلِ دوراں میں بہے جاتے ہیں نقش و رنگ و بو
بحرِ ہستی میں ہے اب بھی جاوداں کی جستجو
مٹ گیا ہے حرفِ باطل کی طرح نقشِ خودی
اب غبارِ رفتگاں میں ہے اماں کی جستجو
سوزِ باطن سے پگھلتا ہے یہ برفابِ سکوت
چشمِ حیراں کو ہے نُورِ لامکاں کی جستجو
ارتقائے فکر ہی بخشے گی تجھ کو زندگی
کر نعیم اب اپنی ہی خاکِ نہاں کی جستجو
