رشتے اور انا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

معمولی باتوں پر بگڑتے رشتے کیسے سنواریں؟

رشتے درخت کی مانند ہوتے ہیں، انہیں وقت، محبت اور برداشت کی زمین میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ مگر آج، ہمارے اردگرد یہ درخت سوکھتے جا رہے ہیں، ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ ذرا سی تلخی، معمولی سی غلط فہمی، ایک بے جا انا—اور برسوں کے تعلقات لمحوں میں بکھر جاتے ہیں۔
کیوں؟

کیوں ہم ایک “معذرت” کہنے کے بجائے رشتے توڑنے کو ترجیح دیتے ہیں؟ کیوں ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ہوسکتا ہے ہم بھی غلط ہوں؟ کیوں ہماری انا اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے پیاروں سے زیادہ عزیز لگتی ہے؟

آج ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ناراضگی، کوئی نہ کوئی دُوری ضرور ہے۔ بہن بھائی بات نہیں کرتے، والدین اولاد سے خفا ہیں، دوست دشمن بن چکے ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے کے خلاف دل میں گِلے پالے بیٹھے ہیں۔ اور سبھی انتظار کر رہے ہیں کہ پہل دوسرا کرے!

لیکن رشتے ضد سے نہیں، محبت اور درگزر سے چلتے ہیں۔ اگر ہم اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئیں، اگر ہم دوسروں کو معاف کرنا سیکھ لیں، اگر ہم ہر چھوٹی بات پر رشتے ختم کرنے کے بجائے انہیں بچانے کی کوشش کریں، تو نہ صرف ہماری زندگی سکون میں آ جائے گی بلکہ ہمارے رشتے بھی مضبوط ہو جائیں گے۔
یاد رکھیں! کبھی کبھی “میں غلط تھا” کہہ دینا، “میں نے تمہیں کھو دیا” کہنے سے بہتر ہوتا ہے۔ اگر آپ کے دل میں کوئی گِلہ ہے، تو آج ہی بات کریں، معاف کریں، اور رشتوں کو ٹوٹنے سے پہلے جوڑ لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے اور ہمارے پاس صرف کاش! رہ جائے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top