(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان ہمیشہ سے قربت کا متلاشی رہا ہے، مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسا جنگل آباد ہے جہاں کوئی دوسرا قدم نہیں رکھ سکتا—ایک وسیع، غیر دریافت شدہ وادی، جہاں درختوں کے سائے بھی اجنبی ہیں اور خاموشی اتنی گہری ہے کہ اپنے ہی خیالات کی سرگوشیاں چیخ معلوم ہوتی ہیں۔ یہی وہ جنگل ہے جو روح کا اصل وطن ہے—کنوارا، تنہا، ناقابلِ تسخیر۔
ہم زندگی میں کئی ہاتھ تھامتے ہیں، راستے بانٹتے ہیں، دلوں کے قریب آتے ہیں، مگر وجود کے اُس آخری دروازے کے پار، جہاں ذات کا سب سے نازک اور حساس گوشہ آباد ہے، وہاں کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے اندر کے طوفانوں کو دیکھے، ہمارے جنگل میں بھٹکے، ہمارے درختوں کی سرگوشیاں سنے، مگر یہ سفر تنہا ہی طے ہوتا ہے—اور شاید یہی بہتر ہے۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ اگر کوئی ہمیں مکمل طور پر سمجھ لے، ہمارے اندر کی بےنام اداسی کو چھو لے، ہمارے دکھوں کی زمین پر ننگے پاؤں چل سکے، تو شاید ہم مکمل ہو جائیں گے۔ مگر سچ یہ ہے کہ مکمل فہم کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ ہر لمحہ تسلی، ہر پل ہمدردی—یہ وہ زنجیریں بن جائیں گی جو روح کی فطری آزادی کو جکڑ دیں گی۔ روح کو بعض اوقات اس برفانی میدان میں اکیلے چلنا ہوتا ہے، جہاں اس کے قدموں کے نشان بھی چند لمحوں بعد معدوم ہو جاتے ہیں، جہاں ہوا بھی اجنبی لگتی ہے اور وقت تھم سا جاتا ہے۔
یہی وہ تنہائی ہے جو انسان کو اس کے حقیقی وجود سے روشناس کراتی ہے۔ اگر ہر پل کوئی ہمیں دیکھتا، ہر لمحہ کوئی ہمیں سمجھتا، تو شاید ہم آئینے میں اپنا عکس بھی کھو دیتے۔ ہمارے اندر کا جنگل اجڑ جاتا، برفانی میدان پگھل جاتا، اور ہم سطحی قربت کے دھوکے میں اپنی اصل تنہائی سے محروم ہو جاتے۔
یوں، نہ صرف دوسروں کی روحوں کو مکمل جاننے کی تمنا کو ترک کرنا ضروری ہے، بلکہ اپنی روح کے اس جنگل میں تنہا چلنے کا ہنر بھی سیکھنا چاہیے۔ کچھ راستے صرف اکیلے چلنے کے لیے ہوتے ہیں، اور بعض تنہائیاں ہی ہماری سب سے بڑی ہمسفر ثابت ہوتی ہیں۔
