روح پر طاری ہے اب ذوقِ طلب کا اک عذاب

غزل

روح پر طاری ہے اب ذوقِ طلب کا اک عذاب
دل پہ بھاری ہے کسی نقشِ طرب کا اک عذاب

آدمی کٹتا رہا ہے تیشہِ اغراض سے
اب اسے ملتا ہے یوں اپنے نسب کا اک عذاب

عقل کی حد سے پرے ہے نظمِ ہستی کا نظام
فکرِ انساں کو ہے اب ترکِ ادب کا اک عذاب

ظلمتِ شب میں جلے ہیں حسرتوں کے سب دیئے
بجھ گیا سورج تو ہے اب بے سبب کا اک عذاب

ارتقائے فکر ہی بخشے گی تجھ کو زندگی
سہہ نعیم اب اپنی ہی تابِ غضب کا اک عذاب

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top