(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
روشنی اور اندھیرا محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی، اخلاقیات اور روحانیت کے بھی آئینہ دار ہیں۔ یہ کشمکش اس کائنات کی تخلیق سے لے کر انسانی قلب کی تہوں تک ہر جگہ موجود ہے۔ جس طرح روشنی پیدا کرنے کے لیے جلنا ناگزیر ہے، خواہ وہ سورج کی تپش ہو یا چراغ کا جلتا ہوا فتيلہ، اسی طرح انسانی روح میں اچھائی کی روشنی کو زندہ رکھنے کے لیے قربانی، ایثار، اور تپسیا درکار ہے۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ بغیر سوز و گداز کے کوئی روشنی ظہور پذیر نہیں ہوتی۔
روشنی کی اصل قربانی میں مضمر ہے۔ سورج اپنی ذات کو جلا کر دن بھر کائنات کو منور رکھتا ہے۔ بلب کا تار جلتا ہے تو روشنی عطا ہوتی ہے۔ اسی طرح، انسانی زندگی میں بھی اچھائی قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ جو انسان ایثار کے جذبات سے خالی ہو، وہ اندھیرے کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ اچھائی صرف ایک رویہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدو جہد ہے جس میں انسان اپنی انا، مفادات، اور خواہشات کو تپش میں ڈالتا ہے تاکہ معاشرہ منور ہو۔
مولانا رومیؒ کا یہ قول قابلِ غور ہے:
اگر تم چراغ بننا چاہتے ہو تو پہلے خود جلنا سیکھو، کیونکہ بغیر جلنے کے تم روشنی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
اندھیرا بذاتِ خود کوئی وجود نہیں رکھتا بلکہ روشنی کے فقدان کا نام ہے۔ جب چراغ بجھ جائے تو اندھیرا خود بخود چھا جاتا ہے۔ یہی اصول انسانی زندگی پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ جہاں اچھائی غائب ہو، وہاں برائی کو پنپنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس معاشرے سے قربانی، ایثار، اور محبت کے چراغ گل ہو جائیں، وہ بدعنوانی، نفرت، اور ظلم کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ جس طرح سورج اپنی روشنی سے زمین کو منور کرتا ہے، اسی طرح ہر انسان کے اندر بھی روشنی پھیلانے کی صلاحیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ صلاحیت خودی کے احساس، سچائی، اور محبت کے جذبے سے پروان چڑھتی ہے۔ لیکن جو انسان اپنے اندر کی روشنی کو بجھا دیتا ہے یا جلنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے، وہ معاشرے میں تاریکی کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔
اقبال نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ کشمکش صرف اخلاقیات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے گہرے فلسفے کو آشکار کرتی ہے۔ روشنی تخلیق کا استعارہ ہے جبکہ اندھیرا فنا کی علامت ہے۔ تصوف میں روشنی کو قرب الٰہی اور اندھیرے کو نفس کی پیروی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے اندر کے چراغ کو جلانے کے لیے تزکیۂ نفس کی ضرورت ہوتی ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
روشنی علم میں ہے اور اندھیرا جہالت میں؛ علم وہ چراغ ہے جو انسان کو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روشنی کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں چند اصول اپنانے چاہئیں:
ایثار اور قربانی:
اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی مدد کرنا روشنی کا بنیادی اصول ہے۔
علم کی طلب:
علم روشنی کی سب سے بڑی صورت ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکالتی ہے۔
خود احتسابی:
اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا تاکہ اچھائی کے چراغ بجھنے نہ پائیں۔
محبت اور برداشت:
نفرت کے اندھیروں کو محبت کی روشنی سے مٹایا جا سکتا ہے۔
ذکر الٰہی:
قرآن کی تلاوت اور ذکر الٰہی دل کو منور کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ
(الرعد: 28)
ترجمہ: خبردار! دلوں کو اللہ کے ذکر سے ہی سکون حاصل ہوتا ہے۔
روشنی اور اندھیرے کی کشمکش ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اندر کے چراغ کو بجھنے نہ دیں، چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی تپش اور قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ اچھائی کے ہر چھوٹے بڑے عمل سے معاشرے میں روشنی کا اضافہ ہوتا ہے، اور جب یہ روشنی مل کر ایک وسیع اجالا بن جاتی ہے، تو پھر اندھیرے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔
جیسا کہ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں:
ایک چراغ ہزاروں چراغ روشن کر سکتا ہے، مگر خود اس کی روشنی کم نہیں ہوتی۔
