صدائے کربلا

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات میں کچھ واقعات محض تاریخ نہیں بنتے؛ وہ انسان کے باطن میں ہلچل مچاتے ہیں، روح کو جھنجھوڑتے ہیں، دل کو جھکا دیتے ہیں اور عقل کو بیدار کر دیتے ہیں۔ کربلا انہی عظیم واقعات میں سے ہے۔ یہ صرف ماضی کا ایک لمحہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والی صدا ہے—جو ہر بیدار ضمیر، ہر سچائی کے متلاشی دل، اور ہر جستجو کرنے والی روح کو پکارتی ہے: آؤ اور دیکھو! وفا کیا ہے؟ قربانی کی انتہا کیا ہے؟ رضا کے رنگ کیا ہوتے ہیں؟ اور عشق کی معراج کہاں پہنچاتی ہے؟
کربلا کوئی فقہی بحث نہیں، بلکہ سچائی اور خودسپردگی کا وہ منظر ہے جہاں عقل عاجز ہو جاتی ہے اور عشق زبان پاتا ہے۔ یہاں دلیل کی جگہ یقین ہے، طاقت کی جگہ تسلیم ہے، اور جیت کی تعریف تخت پر نہیں، حق پر ڈٹ جانے میں ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو تھم گیا، وہ مٹ گیا؛ اور جو جھکا نہیں، وہ امر ہو گیا۔حسینؑ کی زندگی کا ہر لمحہ ایک آیت کی مانند ہے، جو مومن کو خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے: کیا میری نماز میں وہ خشوع ہے؟ کیا میرے سجدے میں وہ اطاعت ہے؟ کیا میری خاموشی میں وہ صبر ہے؟ کیا میری رضا فقط ایک لفظ ہے، یا فنا کی تصویر؟
کربلا کا ہر کردار—چاہے وہ حسینؑ ہوں، زینبؑ، عباسؑ، علی اکبرؑ، حرؓ، قاسمؑ یا سکینہؑ— محض افراد نہیں، بلکہ انسان کے باطنی احوال اور اعلیٰ اقدار کے پیکر ہیں۔
عباسؑ کی وفا اُن دلوں کے لیے چراغ ہے جو دنیا سے دھوکہ کھا کر بھی محبت کا دامن نہیں چھوڑتے۔ زینبؑ کا عزم ہر اُس خاتون کی ہمت بن جاتا ہے جو درد سہہ کر بھی وقار کا علم بلند رکھتی ہے۔ حرؓ کی توبہ بتاتی ہے کہ سچائی کی ایک لمحاتی جھلک صدیاں بدل سکتی ہے—اگر دل میں ندامت ہو اور آنکھوں میں بصیرت۔
کربلا فقط جان کی قربانی کا نام نہیں، بلکہ خواہش، مفاد، غرور اور انا کی نفی ہے۔ حسینؑ نے بتایا کہ سر دینا آسان ہے، لیکن حق کے لیے سر نہ جھکانا اصل بندگی ہے۔ ایسی بندگی جو سوال نہیں اٹھاتی، بلکہ خدا کے حکم پر لبیک کہتی ہے، چاہے خنجر گردن پر ہو۔ کربلا ہمیں زندگی کا نیا زاویہ عطا کرتی ہے۔ یہاں پیاس پانی سے نہیں بجھتی، عشق کی معراج میں مٹتی ہے۔ موت یہاں انجام نہیں، بقا کی ابتدا ہے۔ ہار شکست نہیں، فتح کا پیش لفظ ہے۔ اور خاموشی ایسا اعلان ہے جسے زمانے سنیں گے۔
حسینؑ نے جسم گنوا کر روح کو جیتا، خاندان گنوا کر انسانیت کو جگایا، اور خاک پر لیٹ کر افلاک کے راستے روشن کیے۔ آج کا انسان جس اضطراب، الجھن، اور بےیقینی کا شکار ہے، کربلا اسے ایک مکمل فکری و روحانی جواب عطا کرتی ہے۔ یہاں ہر سوال کا جواب موجود ہے — بشرطیکہ انسان خود کو اس آئینے میں دیکھنے کا حوصلہ رکھے۔
ہمیں سوچنا ہوگا: کیا ہمارا سجدہ حسینؑ کے سجدے جیسا ہے؟ کیا ہماری خاموشی زینبؑ جیسی باوقار ہے؟ کیا ہماری وفا عباسؑ کے نقش قدم پر ہے؟ اور کیا ہماری توبہ حرؓ کی مانند خالص ہے؟
کربلا مظلومیت کی تصویر ہی نہیں، اختیار کے باوجود قربانی کا اعلان ہے ۔حسینؑ چاہتے تو بچ سکتے تھے، مگر وہ ایسی زندگی کو قبول نہ کر سکے جو اصولوں سے خالی ہو۔ ان کا ہر قدم، ہر لمحہ، حق سے وفا کا اعلان تھا۔ اسی لیے جب ظلم کی سیاہی چھاتی ہے، تو سب سے پہلے کربلا کا پرچم بلند ہوتا ہے۔
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر اس دل کی پکار ہے جو ظلم کو رد کرتا ہے، جو وقت کے یزیدوں کے سامنے نہیں جھکتا، جو ایمان کو قیمت پر نہیں بیچتا، جو تنہائی میں بھی خدا کو گواہ جانتا ہے۔
حسینؑ نے عمل سے ثابت کیا کہ وہی شخص زندہ ہے جو اصولوں پر مرنے کو تیار ہو، اور وہی قوم کامیاب ہے جو مظلوم کی پکار پر لبیک کہنے کا حوصلہ رکھے۔
کربلا سکھاتی ہے کہ وفا احسان نہیں، ایک فطرت ہے—جو نہ خریدی جا سکتی ہے، نہ سکھائی جا سکتی ہے،صرف جِی جا سکتی ہے۔رضا صرف زبان سے ادا ہونے والا لفظ نہیں، بلکہ فنا فی اللہ کی معراج ہے۔
شریعت صرف ظاہری احکام کا نام نہیں، بلکہ باطن کی سچائی ہے۔
بیعت فقط ہاتھ تھامنے کا عمل نہیں، بلکہ اصولوں پر جان نچھاور کرنے کی قسم ہے۔ یہ واقعہ ہمیں خبردار کرتا ہے: ہر وہ نظام جو طاقت کے نشے میں عدل کو روند ڈالے یزیدی ہے اور ہر وہ انکار جو حق کے لیے ہو حسینی ہے۔ زمانے بدلتے ہیں، کردار بدلتے ہیں، لیکن حسینؑ کا مقام نہیں بدلتا — وہ ہمیشہ وہیں ہوتے ہیں جہاں حق، صبر اور رضائے الٰہی کی روشنی ہو۔
لہٰذا، جو کربلا کو صرف ایک دن کا ماتم سمجھتا ہے، وہ حسینؑ کو نہیں پہچان سکا ۔حسینؑ ماتم نہیں بیداری ہیں، احتجاج نہیں عشق ہیں، فریاد نہیں روشنی ہیں۔ اور جس دن انسان اپنے اندر حسینؑ کو تلاش کر لے، وہ دن اُس کی بعثت کا دن ہوگا —نئی زندگی، نئے شعور، اور ایک نئے عہد کا آغاز۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top