(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات کے ہر پہلو میں ایک جوڑا پوشیدہ ہے، ایک ضد، ایک متوازی حقیقت—روشنی اور اندھیرا، دن اور رات، آگ اور پانی۔ مگر سب سے عجیب جوڑا سکوت اور شور کا ہے—دو جہان جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں، مگر کبھی ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتے۔
سکوت محض خاموشی نہیں، بلکہ ایک مکمل کائنات ہے۔ یہ وہ سرگوشی ہے جو الفاظ کے بغیر سنی جا سکتی ہے، وہ کہانی ہے جو سنائی نہیں جاتی، مگر محسوس کی جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں وقت تھم جاتا ہے، جہاں ہر شے اپنی اصل میں لوٹ آتی ہے۔ سکوت ایک پناہ گاہ ہے، جہاں روح تھکن اتارتی ہے، جہاں دل خود سے مکالمہ کرتا ہے، جہاں زندگی اپنی تمام تر ہلچل کے باوجود رک جاتی ہے۔
اور شور؟ شور تو بغاوت ہے، اعلان ہے، خود کو منوانے کی ضد ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو کسی بھی خاموشی کو چیر سکتی ہے، جو کسی بھی سکوت کو مٹا سکتی ہے۔ شور ہجوم کی آواز ہے، طاقت کی گونج ہے، زندگی کا بے لگام بہاؤ ہے۔ یہ وہ دھڑکن ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتی، وہ صدا ہے جو گم نہیں ہوتی، وہ دعویٰ ہے جو دب نہیں سکتا۔
مگر پھر بھی، سکوت اور شور کبھی ایک دوسرے کو مکمل نہیں کر سکتے۔ شور چاہتا ہے کہ سکوت اس کے ساتھ بہہ جائے، مگر سکوت کا وجود بہنے میں نہیں، ٹھہر جانے میں ہے۔ سکوت چاہتا ہے کہ شور اسے سن لے، مگر شور سننے کے لیے نہیں، بولنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ ایک کہنے کے قابل نہیں، دوسرا سننے کے قابل نہیں۔
تبھی یہ دونوں ہمیشہ ساتھ رہ کر بھی جدا رہتے ہیں۔ شور اپنی شدت میں فنا ہو جاتا ہے، اور سکوت اپنی خاموشی میں گم۔ دونوں اپنی جگہ قائم، اپنی فطرت میں مستحکم، مگر ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ ناتمام۔
اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے—
کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو ساتھ رہ کر بھی بیگانہ رہتی ہیں،
اور کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی ساری ریاضت کے باوجود نہیں سمٹتے،
کیونکہ کچھ راستے متوازی چلنے کے لیے ہوتے ہیں،
مگر کبھی ایک ہونے کے لیے نہیں۔
