شکست سے جنم لینے والا انسان

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

میں اپنی فتحوں کا نہیں، اپنی شکستوں کا فرزند ہوں—کیونکہ جیت نے مجھے تسکین دی، مگر ہار نے مجھے تخلیق کیا۔

یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہر جیت کے پس منظر میں سانس لیتی ہے۔ زندگی ہمیں جیت کے جشن میں محو کر دیتی ہے، مگر حقیقت میں ہمارا اصل چہرہ ہماری شکستوں کے آئینے میں جھلکتا ہے۔ کامیابی روشنی کی چمک میں ہمیں دھندلا کر سکتی ہے، مگر شکست وہ کرب ہے جو ہماری اصل صورت کو واضح کر دیتا ہے۔

زندگی ایک ایسی بھٹی ہے جس میں ہم جل کر کندن بنتے ہیں۔ جو لوگ شکستوں سے ڈرتے ہیں، وہ اصل میں اپنی ناتمامی سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ مگر جو اپنی شکستوں کو اپنا استاد بنا لیتے ہیں، وہ اپنی خاک سے خود کو ایک نئی شکل میں ڈھال لیتے ہیں۔ ہر ناکامی ایک انجانی فتح کا دروازہ ہوتی ہے، اگر ہم اس کا راز سمجھ سکیں۔

شکست کا زخم ایک بے آواز چیخ ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں جانا چاہیے۔ یہ ہماری حدود کو آشکار کرتی ہے، ہمارے وہم توڑتی ہے، ہماری طاقتوں کو ازسرِنو ترتیب دیتی ہے۔ جو شکستوں میں نہیں جھانکتا، وہ اپنی اصل طاقت کو کبھی دریافت نہیں کر سکتا۔

شکست دراصل ایک راز ہے، ایک گہرا سمندر، جس میں اگر ہم ڈوبنے کا حوصلہ رکھیں تو وہ ہمیں اندر سے بدل کر رکھ دیتا ہے۔ کامیابی محض ایک لمحے کی خوشی دیتی ہے، مگر شکست ہمیں ہمیشہ کے لیے سکھا دیتی ہے کہ ہم کون ہیں اور ہمیں کیا بننا ہے۔

جو لوگ اپنی شکستوں کو تسلیم کرکے ان سے سیکھتے ہیں، وہ صرف جیتنے والے نہیں، بلکہ خود کو دوبارہ تخلیق کرنے والے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اصل جیت وہ نہیں جو دنیا دیکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جو ہماری ہار کے اندھیرے میں، ہمارے اندر جنم لیتی ہے—خاموش مگر ناقابلِ تسخیر!

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top