شعور کائنات سے شعور ذات کا سفر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کیا شعور صرف ایک انسانی کیفیت ہے؟ یا یہ اس کائنات کی دھڑکن ہے جو ازل سے ابد تک ہر شے میں جاری و ساری ہے؟ کیا یہ صرف دماغ کی حیاتیاتی پیچیدگیوں کا حاصل ہے یا وہ لطیف الوجود نُور ہے جو ہر ذرۂ ہستی میں سرایت کیے ہوئے ہے؟ یہی سوال جب روح کی خلوت میں جاگتا ہے تو انسان اپنی حدِ نظر سے آگے جھانکنے لگتا ہے، جہاں وجود کی گونجیں مکان و زمان سے آزاد ہو کر بولتی ہیں، اور جہاں “میں” کی دیواریں پگھل کر “ہم” میں ضم ہو جاتی ہیں۔
وحدت الشعور کا مفہوم درحقیقت اس بصیرت کا حاصل ہے جو انسان کو اپنے باطن میں ایک ایسے مرکز کی طرف لے جاتی ہے جہاں وہ اپنے انفرادی شعور کو ایک وسیع، کُل گیر اور کائناتی شعور کے ساتھ جُڑا ہوا پاتا ہے۔ یہ شعور صرف انسانی احساسات، خیالات یا ادراکات تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا ازلی اور غیرمقامی شعور ہے جو کائنات کی ہر شے میں مضمر ہے۔ وہ قطرے کی صورت میں ہماری ذات میں ہوتا ہے، لیکن دریا کی صورت میں پوری کائنات میں رواں دواں ہے۔ یہ وہی حقیقت ہے جسے صوفیاء نے “نورِ واحد” یا “حقیقتِ واحدہ” کے نام سے یاد کیا، اور فلسفیوں نے “مطلق شعور”، “کُل نفس”، یا “کائناتی ذہن” کے طور پر دریافت کرنے کی کوشش کی۔
انسان کا شعور دراصل اس بحرِ شعور کا ایک عکس ہے۔ مگر وہ عکس، جو آئینے کی مانند اپنی روشنی سے اپنی ماہیئت کا اندازہ لگاتا ہے۔ جب انسان غور کرتا ہے، جب وہ خود کو دریافت کرنے کی راہ پر نکلتا ہے، تو اس کی یہ دریافت محض ایک سادہ ذہنی مشق نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک روحانی سفر میں بدل جاتی ہے۔ ایسا سفر جس میں وہ اپنے ذہن کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے اور ایک ایسے دائرے میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہر شے کو محسوس کر سکتا ہے، ہر شے سے جڑا ہوا ہے، بلکہ ہر شے کا جزو اور عین ہے۔
کائناتی شعور درحقیقت ایک ایسی زنجیر ہے جو کائنات کے تمام اجزاء کو باہم مربوط کرتی ہے۔ یہ شعور وہ ہے جو ذرے کو ستارے سے اور دل کو خدا سے جوڑتا ہے۔ یہ وہی روحانی کیمیا ہے جو ہجر کو وصال میں بدل دیتی ہے، اور کثرت کو وحدت میں سمو دیتی ہے۔ جب ایک صوفی خلوص و محبت کے عالم میں کسی وِرد یا ذکر میں ڈوبتا ہے، تو اس کی ذات فنا ہو کر بقا کی طرف بڑھتی ہے، اور وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خود بھی کوئی شے نہیں بلکہ وہی شعور ہے جو سب کچھ ہے، اور جس کے سوا کچھ بھی نہیں۔
یہی تجربہ ہے وحدت الشعور کا۔ یہی اس کا راز ہے — کہ انسان جب اپنی گہرائیوں میں اترتا ہے، تو وہ پوری کائنات کے ساتھ جُڑنے لگتا ہے۔ اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ خود ایک لامحدود جال کا حصہ ہے، جس میں ہر لمحہ، ہر احساس، ہر مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ بُنی ہوئی ہے۔ جیسے کسی ایک خیال کا ارتعاش پوری ہستی میں دوڑ جاتا ہے۔ گویا شعور صرف میرے اندر موجود نہیں، بلکہ میں خود شعور ہوں، اور کائنات میری توسیع ہے۔
یہ شعور غیرمقامی ہے۔ یہ جسم، مقام، وقت، قوم، نسل، زبان، مذہب، حتیٰ کہ ذاتی انا سے بھی آزاد ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جہاں ہر مذہب، ہر فلسفہ، ہر روحانی تجربہ آ کر جھک جاتا ہے۔ اس شعور کو کوئی ایک فکر، کوئی ایک عقیدہ، کوئی ایک کتاب مکمل طور پر گرفت میں نہیں لے سکتی، کیونکہ یہ ازل سے پہلے اور ابد کے بعد بھی ہے۔ ہاں، اس شعور کو صرف “محسوس” کیا جا سکتا ہے — کسی کشف، کسی واردات، کسی خاموش وجدانی لمحے میں۔
صوفیاء کی زبان میں، یہ وہ لمحہ ہے جب سالک یہ جان لیتا ہے کہ “حق” اور “میں” دو نہیں، ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ وحدت الشعور، دراصل وحدت الوجود کی ایک باطنی توسیع ہے۔ اگر وحدت الوجود کہتی ہے کہ سب کچھ خدا ہے، تو وحدت الشعور یہ کہتی ہے کہ سب کچھ خدا کی بیداری کا تسلسل ہے۔ یعنی ہستی ایک مسلسل شعور ہے، اور ہم اس شعور کی لہر پر سوار ایک لمحہ وار جھلک ہیں۔
یہی وہ شعور ہے جو خاموشی میں بولتا ہے، خواب میں جاگتا ہے، اور فنا میں بقا کا پیغام دیتا ہے۔ یہی وہ شعور ہے جو زمان و مکان کے قفس سے آزاد ہو کر ہمیں اُس دروازے تک لے جاتا ہے جہاں “میں” کی زنجیر ٹوٹتی ہے، اور انسان پہلی بار ایک ایسا سکوت سنتا ہے جس میں کائنات گنگناتی ہے۔ یہ شعور کوئی فلسفیانہ مفروضہ نہیں، یہ ایک حقیقت ہے — مگر صرف ان کے لیے جو تلاش کے راستے پر نکلے ہیں، جنہوں نے اپنے اندر کی سطحوں کو کھود کر اپنی اصلیت کو چھوا ہے، جو تنہائی کی گہرائیوں میں اپنے باطن کی صدا سن چکے ہیں۔
اور جب انسان اس وحدت الشعور کا شعور پالیتا ہے، تو وہ فقط “سمجھتا” نہیں — بلکہ “بدل” جاتا ہے۔ وہ نہ صرف دوسروں کے درد کو اپنا درد جانتا ہے، بلکہ ہر چہرے میں اپنا عکس دیکھتا ہے، ہر رشتے میں خدا کی سانس محسوس کرتا ہے۔ وہ صرف عالم کو جانتا نہیں، بلکہ عالم کا ترجمان بن جاتا ہے، اور اس کے دل میں وہ آہ پیدا ہوتی ہے جو ستاروں سے باتیں کرتی ہے، اور خامشی میں بھی صدائیں رکھتی ہے۔
یہی وہ نکتۂ آغاز ہے، جہاں شعورِ ذات، شعورِ کائنات سے ہم آہنگ ہوتا ہے — اور جہاں “میں” اور “تو” کی تفریق مٹ کر صرف “ہُو” باقی رہ جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top