شہرِ تیرہ میں ہے اب خوابِ سحر کی گفتگو

غزل

شہرِ تیرہ میں ہے اب خوابِ سحر کی گفتگو
پھر لبِ ساحل ہے طوفانِ نظر کی گفتگو

مصلحت کی دھوپ میں جھلسے ہوئے ہیں سب شجر
بے اماں ہے اب کسی دیوار و در کی گفتگو

بٹ رہا ہے رزق اب منصب کی میزانوں میں آج
ہو رہی ہے ہر طرف زر اور گھر کی گفتگو

بھوک نے اوڑھی ہے اب تو چپ کی چادر شہر میں
شور میں گم ہے کسی لعل و گہر کی گفتگو

آئینہ دکھلا دیا ہے وقت کی یلغار نے
رہ گئی ہے بس اب اپنے ہی ہنر کی گفتگو

سوزِ الفت اب نمائش کی نذر ہونے لگا
دردِ دل سے دور ہے اب بے اثر کی گفتگو

عدل کی بستی میں مل جائے گی راحت اے نعیم
کیوں ہے پھر ہر موڑ پر خوفِ خطر کی گفتگو

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top