شکار، مچان، اور تھکن کا فلسفہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

شکار محض تیر و کمان کے اچھے استعمال یا مچان کی بہترین جگہ کا متقاضی نہیں ہوتا۔ اس میں کامیابی کا راز شکار کی بے خبری، خوف کی عدم موجودگی، اور سب سے بڑھ کر اس کے وجود میں چھپی تھکن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ فلسفہ صرف جنگل کی حقیقت نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک گہرا استعارہ بھی ہے۔

جب انسان زندگی کے میدان میں مستعد، بیدار اور ہوشیار ہوتا ہے تو ہر وار خطا ہو جاتا ہے۔ لیکن جب تھکن اس کے وجود میں رچ بس جاتی ہے، تو وہ دشمن کے لیے نرم چارہ بن جاتا ہے۔ یہ تھکن محض جسمانی نہیں ہوتی، بلکہ ذہنی، جذباتی اور روحانی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
جب دل تھک جائے تو عقل کی تیر اندازی خطا کھا جاتی ہے۔
بے خبری، جو شکار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، انسانی زندگی میں بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ جب انسان دنیا کے ہنگاموں میں اس قدر مشغول ہو جاتا ہے کہ اپنی ذات کی خبر نہیں رہتی، تو وہ ہر وار کے لیے تیار شکار بن جاتا ہے۔ یہ بے خبری اُس بصیرت کی ضد ہے جسے حکمت کہتے ہیں۔

پھر آتا ہے بے خوفی کا مرحلہ، جو ابتدا میں مثبت معلوم ہوتا ہے لیکن اگر شعور سے خالی ہو تو یہی بے خوفی نادانی میں بدل جاتی ہے۔
سقراط نے کہا تھا:
بے خوفی جب حکمت سے جدا ہو جائے تو حماقت بن جاتی ہے۔
شکار کا سب سے بڑا راز تھکن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب شکار کی رگوں میں زندگی کی جنبش مدھم پڑ جائے، جب اس کے خواب بوجھ بن جائیں اور اس کے ارادے زنگ آلود ہو جائیں، تو وہ ایک آسان ہدف بن جاتا ہے۔ یہی تھکن زندگی میں شکست کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
حکیم لقمان نے فرمایا تھا:
انسان کی اصل شکست اس کے جسم میں نہیں، بلکہ اس کے ارادے کی تھکن میں ہوتی ہے۔
انسانی زندگی میں کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ اپنے وجود کو بیدار رکھے، اپنی روح کو تازہ دم رکھے، اور اپنی تھکن کو راستہ نہ دے۔ ہر وار کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب شعور زندہ ہو، دل ہوشیار ہو، اور ارادے چمکدار ہوں۔

لہٰذا، زندگی کا فلسفہ یہ نہیں کہ ہر وار کو روکا جائے، بلکہ یہ ہے کہ خود کو اس قابل بنایا جائے کہ کوئی وار کارگر نہ ہو۔ یہی وہ حکمت ہے جو انسان کو شکاری کے ہر وار سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے اپنی زندگی کا فاتح بناتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top