(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
روحانی رنگ میں رنگنے کا راز
یہ دنیا ایک وسیع کینوس ہے، اور ہر انسان ایک تشنۂ رنگ تصویر۔ کچھ لوگ دنیاوی رنگوں میں رنگے جاتے ہیں، جو سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی ماند پڑ جاتے ہیں، اور کچھ وہ خوش نصیب ہوتے ہیں جو صبغتہ اللّٰہ میں رنگے جاتے ہیں—ایسا رنگ جو کبھی مدھم نہیں پڑتا، بلکہ روزِ ازل سے ابد تک باقی رہتا ہے۔
یہ رنگ کیا ہے؟ یہ رنگ وہ نور ہے جو “اللّٰہ نور السموات والارض” کے سرچشمے سے نکل کر دل کی تاریکیوں کو روشن کر دیتا ہے۔ یہ وہ آفتاب ہے جو خودی کے بادل چیر کر حقیقت کے افق پر چمکتا ہے۔ یہ وہ جُوہر ہے جو سالک کو انا کے خول سے نکال کر “فنا فی اللّٰہ” کی وادی میں لے جاتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس رنگ میں رنگا کیسے جائے؟
یہ رنگ پانی کی مانند نہیں کہ کسی برتن میں بھرا اور خود پر انڈیل لیا، یہ رنگ وہ آتش ہے جو خود کو جلانے کے بعد ہی روشنی عطا کرتی ہے۔ اس رنگ میں رنگنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود کو دنیا کے مصنوعی رنگوں سے دھو لے۔
یہ رنگ ذکر کی شبنمی بوندوں میں ہے، جو قلب کو نرم کر دیتی ہیں۔ یہ فکر کے چراغ میں ہے، جو معرفت کی راہیں روشن کرتا ہے۔ یہ محبت کے جام میں ہے، جو دل کو نفرت کی زنگ آلودگی سے پاک کر دیتا ہے۔ یہ خدمت کی خاک میں ہے، جو نفس کی خودی کو مٹی میں ملا کر بندے کو رب کے قریب کر دیتی ہے۔
یہ رنگ جب کسی پر چڑھتا ہے، تو وہ عام انسان نہیں رہتا، وہ عارف بن جاتا ہے۔ اُس کی نظر میں دنیا کا ہر رنگ محض فریب نظر آتا ہے، اُس کا دل “رضیت باللّٰہ رباً” کا آئینہ بن جاتا ہے، اُس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ حقیقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔
یہی وہ رنگ ہے جو موسیٰ کے سینے میں تجلی بن کر اُترا، یہی وہ رنگ ہے جو منصور کے “انا الحق” میں بولا، یہی وہ رنگ ہے جو رومی کے رقص میں جھلکا۔
جو اس رنگ میں رنگ گیا، وہ امر ہو گیا۔ جو اس رنگ میں نہ رنگا، وہ دنیا کے لاکھوں رنگوں میں بھی بے رنگ ہی رہا۔ اس لیے اے سالکِ راہِ عشق! اگر رنگنا ہی ہے، تو اس رنگ میں رنگ جا، کہ اس کے بعد کسی اور رنگ کی حاجت باقی نہ رہے گی۔
“صبغتہ اللّٰہ، ومن احسن من اللّٰہ صبغۃ” (البقرہ: 138)
