سب سے پہلا دھوکہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

آئینہ ہمیشہ سچ بولتا ہے، مگر ہر سچ سننے کے لائق نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دنیا پر عدم اعتماد کرتے ہیں، دھوکے سے ڈرتے ہیں، فریب کے خوف میں جیتے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ سب سے پہلا اور سب سے بڑا دھوکہ خود انہوں نے اپنے آپ کو دیا ہوتا ہے۔

آئینے میں جھانکو، وہاں وہی چہرہ دکھائی دے گا جس نے تمہیں سب سے زیادہ تسلیاں دی تھیں، سب سے زیادہ بہلایا تھا، اور سب سے زیادہ دھوکہ دیا تھا۔ وہی چہرہ جس نے خواب دیکھے اور ان خوابوں کے ٹوٹنے پر دوسروں کو قصوروار ٹھہرایا، وہی آنکھیں جو ہمیشہ سچائی سے منہ موڑ کر وہی دیکھا جو دیکھنا چاہتی تھیں، وہی ہونٹ جو خود سے کیے وعدے توڑ کر دوسروں کی بے وفائی کا شکوہ کرتے رہے۔

انسان کی سب سے بڑی شکست تب ہوتی ہے جب وہ خود کو بےقصور سمجھنے لگتا ہے، جب وہ اپنی غلطیوں کو نظر انداز کر کے دوسروں کے دھوکوں کی گنتی کرتا رہتا ہے۔ مگر آئینہ خاموش رہ کر بھی سب کچھ کہہ دیتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ تمہارے اعتماد کے مسائل دنیا کی وجہ سے نہیں، بلکہ تمہاری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہیں۔ تم نے خود کو کمزور کیا، اپنی ذات کو ٹھیک سے سمجھا نہیں، اپنے دل کے سب سے گہرے کونے میں جو سچ دفن تھا، اس کا سامنا نہ کر سکے۔

اگر تمہیں دنیا پر بھروسہ نہیں، تو شاید تم نے کبھی خود کو بھی سچائی سے پرکھا نہیں۔ جو اپنے وعدوں کا وفادار نہیں، وہ دوسروں کی وفا کا کیا گلہ کرے؟ جو اپنی ذات کے سچ سے بھاگتا رہا، وہ دوسروں کے فریب پر کیوں حیران ہو؟

آئینہ صرف ایک عکس دکھاتا ہے، مگر آنکھیں اگر دیکھنا جانتی ہوں، تو یہ عکس ایک مکمل حقیقت بن جاتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا دھوکہ ہمیں دنیا نہیں دیتی، بلکہ ہم خود اپنے آپ کو دیتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top