(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دنیا ایک دھوکہ ہے، جاگنے کا وقت آ گیا
“وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ” (سورہ الحدید: 20)
“یہ دنیا کی زندگی محض دھوکہ دینے والا سامان ہے!”
یہ وہ دھوکہ ہے جس میں ہم سب گرفتار ہیں، ایک ایسا سراب جسے ہم حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں۔
سوچو! تم دوڑ رہے ہو، ہر لمحہ، ہر دن، ہر رات—دولت کے پیچھے، عزت کے پیچھے، شہرت کے پیچھے، طاقت کے پیچھے، محبتوں کے پیچھے۔ تم سمجھتے ہو کہ جب یہ سب حاصل کر لو گے تو سکون مل جائے گا، تمہاری پیاس بجھ جائے گی۔
مگر جب یہ سب کچھ تمہارے ہاتھ آتا ہے، تم خوش ہونے کی کوشش کرتے ہو، مگر کہیں نہ کہیں دل خالی ہی رہتا ہے۔ تم ایک منزل پر پہنچتے ہو، اور نئی منزل کی طلب میں بےچین ہو جاتے ہو۔
یہی تو “متاعِ غرور” ہے! ایک خواب، جو حقیقت لگتا ہے۔ ایک فریب، جو آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
یہ دنیا ایک چمکتا ہوا سراب ہے—وہی سراب جو صحرا میں مسافر کو پانی نظر آتا ہے، مگر جب وہ قریب پہنچتا ہے، تو وہاں کچھ نہیں ہوتا۔
تو اب سوال یہ ہے:ط اس سراب سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟
1. ایمان کی روشنی سے راستہ روشن کرو
اللہ نے قرآن میں فرمایا:
“اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ” (سورہ البقرہ: 257)
“اللہ ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لاتے ہیں، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے۔”
یہ ایمان کی روشنی ہے جو ہمیں سراب سے بچاتی ہے۔ اگر ہمارا ایمان مضبوط ہے، تو ہمیں دنیا کے دھوکےط سے بچنے کا راستہ مل جاتا ہے۔ اللہ پر توکل اور اس کی رضا کی جستجو، دنیا کے لذتوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ جب ہم اللہ کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں، تو ہم دنیا کی فریبوں میں نہیں پھنس پاتے۔
2. دنیا کو ایک امتحان سمجھو
“إِنَّ مَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ”
(سورہ التغابن: 15)
“تمہارا مال و اولاد تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں، اور اللہ کے ہاں تمہارے لیے بڑا انعام ہے۔”
یہ آیت ہمیں دنیا کی فانی اور عارضی چیزوں — مال و اولاد — کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمارے لیے ایک آزمائش قرار دیا ہے، جو ہمارے ایمان، نیت اور عمل کی جانچ کرتی ہیں۔ دنیا میں ہم ان نعمتوں کا استعمال اپنی ذاتی خوشی یا لذت کے لیے نہیں کرتے، بلکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں اللہ کی رضا کے لیے استعمال کریں۔ اگر ہم اپنی دولت کو محتاجوں کی مدد میں اور اپنی اولاد کو اللہ کے راستے میں صحیح تربیت دینے میں خرچ کرتے ہیں، تو یہ ہمیں اللہ کے عظیم انعام کا حق دار بنائے گا۔
3. آخرت کو یاد رکھو
یہ سب کچھ عارضی ہے، اور اللہ نے ہمیں یاد دہانی دی:
“وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ” (سورہ الاعلی: 17)
“اور آخرت زیادہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔”
یہ دنیا کی لذتیں وقتی ہیں، اور آخرت کی زندگی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ جب ہم آخرت کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے لیے عمل کرتے ہیں، تو دنیا کا دھوکہ ہماری آنکھوں سے دور ہو جاتا ہے۔
4. دنیا کی نعمتوں کو مقصد کے لیے استعمال کرو
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو صرف اپنے عیش و آرام کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرو۔ اگر ہم مال، وقت، اور طاقت کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، تو یہی دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
“وَفِي السَّمَاءِ رَزْقُكُمْ وَمَا تُوَعَدُونَ” (سورہ الذاریات: 22)
“تمہارا رزق آسمان میں ہے، اور جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تمہیں مل کر رہے گا۔”
دنیا میں جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اللہ کی عطا ہے۔ ہمیں اس کا شکر گزار رہنا چاہیے اور اس سے بہترین طریقے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ دنیا محض ایک سراب ہے، لیکن اگر ہم اللہ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں، تو یہی دنیا ہمیں آخرت میں کامیابی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ جاگنے کا وقت آ چکا ہے، اور اللہ کی روشنی کو اپنے دل میں بسانے کا وقت ہے۔
