سنو! قیامت سے پہلے کی آخری خبر!

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

یہ خبر تمہارے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے! یہ کوئی عام خبر نہیں، یہ کوئی افواہ نہیں، یہ کوئی مفروضہ نہیں—یہ حقیقت ہے! وہ حقیقت جس کے سامنے تخت گر جاتے ہیں، تاج ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، اور وہ سب کچھ جسے تم کامیابی سمجھتے ہو، لمحوں میں خاک ہو جاتا ہے۔

یہ خبر ہے، انسانی خسارے اور ابدی تباہی کی!

یہ وہ اعلان ہے جسے سن کر مردہ دل زندہ ہو جائیں، غافل ہوش میں آ جائیں، اور جو جاگ رہے ہیں، وہ مزید خبردار ہو جائیں! اگر تم نے اس خبر کو نظر انداز کیا، تو یاد رکھو—یہ تمہاری بربادی کی پہلی سیڑھی ہوگی!

یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ وہ فرمان ہے جسے ربِ کائنات نے خود نازل کیا!

“قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا۔ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا”
(سورہ کہف: 103-104)

“(اے نبیؐ!) کہہ دو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ نقصان میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی ساری سعی و جہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہو گئی، اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں۔”

سوچو! سب سے بڑا خسارہ کیا ہے؟

یہ نہیں کہ تمہاری دولت ختم ہو جائے، یہ نہیں کہ تمہاری زمینیں چھن جائیں، یہ نہیں کہ تمہارا کاروبار تباہ ہو جائے! سب سے بڑا خسارہ یہ ہے کہ تمہاری زندگی برباد ہو جائے اور تمہیں اس کا احساس بھی نہ ہو!

یہ وہ لوگ ہیں جو ہر دن محنت کرتے ہیں، لیکن اس راستے میں جو ہلاکت کی طرف جا رہا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی روشنیوں میں دوڑتے ہیں، مگر جب آنکھ کھلتی ہے، تو قبر کی تاریکی میں ہوتے ہیں!
یہ وہ لوگ ہیں جو کامیابی کے جشن مناتے ہیں، مگر جب حقیقت آشکار ہوتی ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تباہ ہو چکے ہیں!

یہ دنیا ایک سراب ہے!

یہ وہ چمکتا پانی ہے جو ریگستان میں دکھائی دیتا ہے، مگر جب تم پہنچو، تو کچھ بھی نہ پاؤ!

“وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا”
(سورہ النور: 39)

“اور جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں، جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا۔”

یہ وہ لوگ ہیں جو دن رات دوڑتے ہیں، مگر قبر کی دہلیز پر جا کر گر جاتے ہیں!
یہ وہی لوگ ہیں جو محل تعمیر کرتے ہیں، مگر آخرت میں جھونپڑی کے حق دار بھی نہیں ہوتے!
یہ وہی لوگ ہیں جو طاقت کے نشے میں آتے ہیں، مگر فرشتے جب روح نکالتے ہیں تو چیخیں مارنے لگتے ہیں!
یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہیں، مگر جب قیامت برپا ہوتی ہے، تو ان کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں!

سوچو! آج تم کہاں کھڑے ہو؟

یہ خبر تمہارے لیے زندگی کا سب سے بڑا سوال ہے: کیا تم کامیاب ہو؟

کیا تم جانتے ہو کہ اصل کامیابی کیا ہے؟
کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ جب تمہاری روح جسم سے نکلے گی، تو تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟
کیا تم نے کبھی قبر کے پہلے لمحے کے بارے میں غور کیا ہے؟

حقیقی کامیابی کیا ہے؟

نہ دولت، نہ شہرت، نہ طاقت!
حقیقی کامیابی وہی ہے جو اللہ کے نزدیک کامیابی ہو!

“فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ”
(سورہ آل عمران: 185)

“پس جسے جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی درحقیقت کامیاب ہوا۔”

جس نے جہنم سے نجات پا لی، اور جنت میں داخل کر دیا گیا—بس وہی کامیاب ہوا!

سوچو!
کیا تمہارے پاس وہ اعمال ہیں جو تمہیں جہنم سے بچا سکیں؟
کیا تمہارے پاس وہ ایمان ہے جو تمہیں روشنی کی طرف لے جا سکے؟

یہ وقت ہے کہ جاگ جاؤ!

یہ دنیا دھوکہ ہے!
اصل زندگی وہ ہے جو اللہ کے ساتھ وابستہ ہے!
وہی روشنی ہے، وہی حق ہے، اور وہی کامیابی کی آخری منزل ہے!

“اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ”
(سورہ البقرہ: 257)

“اللہ ایمان والوں کا دوست ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔”

یہ وہ لمحہ ہے جب تمہیں فیصلہ کرنا ہے!

کیا تم روشنی کی طرف لوٹو گے؟
یا اندھیروں میں ڈوبے رہو گے؟

یہ وہ خبر ہے جس پر شک کرنا بھی کفر ہے!
روشنی کی طرف لوٹ آؤ، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے!

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top