طبقاتی تفریق

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی خلیج

شہر کے ایک حصے میں روشنیوں کی دنیا ہے—چمچماتی گاڑیاں، بلند و بالا عمارتیں، پرتعیش ہوٹل، مہنگے برانڈز، اور ایسی زندگیاں جن میں خوشیاں خریدنے کی طاقت ہے۔ اور اسی شہر کے دوسرے کونے میں اندھیرا ہے—ٹوٹے پھوٹے مکان، بھوک سے بلکتے بچے، فٹ پاتھ پر سونے والے مزدور، اور ایسی زندگیاں جن کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ایک خواب ہے۔

یہی ہمارا المیہ ہے—دو پاکستان، ایک ہی سرزمین پر۔ ایک پاکستان جہاں سہولتوں کی فراوانی ہے، اور دوسرا جہاں بنیادی ضروریات تک میسر نہیں۔ امیر کے بچے مہنگے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، جہاں مستقبل کے دروازے ان پر خود بخود کھلتے جاتے ہیں، اور غریب کے بچے یا تو مزدوری پر لگ جاتے ہیں یا کسی سرکاری اسکول کے بوسیدہ کمروں میں ایک ایسی تعلیم حاصل کرتے ہیں جو ان کی قسمت بدلنے کے قابل نہیں۔

یہ صرف دولت کی تقسیم کا مسئلہ نہیں، یہ مواقع کی تقسیم کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر غریب محنت کر کے آگے بڑھنا بھی چاہے، تو وسائل کی کمی اس کے خوابوں کے پر کاٹ دیتی ہے۔ امیر کو اگر ناکامی بھی ہو، تو اس کے لیے دوسرے مواقع موجود ہوتے ہیں، مگر غریب کے پاس صرف ایک موقع ہوتا ہے، اور اگر وہ کھو جائے تو اس کی پوری زندگی تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔

یہ فرق دن بدن بڑھ رہا ہے۔ غریب پہلے صرف ضروریات کے لیے ترستا تھا، اب اسے اپنی عزتِ نفس بھی گروی رکھنی پڑتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا اس کے لیے نہیں بنی، کہ انصاف، تعلیم، صحت اور ترقی کے دروازے صرف ان لوگوں کے لیے کھلے ہیں جن کے پاس دولت کی چابی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاشرہ اس تفریق کے ساتھ زیادہ دیر تک چل سکتا ہے؟ جب مایوسی حد سے بڑھ جائے، تو انقلاب کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنی پالیسیوں میں انصاف کو شامل کرنا ہوگا، وسائل کی تقسیم کو متوازن بنانا ہوگا، اور اس معاشرتی خلیج کو پاٹنا ہوگا، ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ دو پاکستان ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوں گے، اور پھر صرف دیواریں ہی نہیں، سب کچھ گر جائے گا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top