تحقیق اور تسلیم کا فلسفہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک گتھی ہے جسے سلجھانے کی کوشش میں انسان نے صدیاں بیتا دیں، مگر رازوں کے پردے بدستور قائم ہیں۔ ہم اپنی ہی خواہشات، فیصلوں اور نتائج کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، پھر اللہ کے کاموں کو سمجھنے کا دعویٰ کیسا؟

زندگی میں ہمیں دو راستے ملتے ہیں — تحقیق اور تسلیم۔ دنیا کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے تحقیق ضروری ہے، مگر اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا ہی سکون کا راز ہے۔ ہم اکثر ان دونوں کے فرق کو بھول جاتے ہیں اور وہاں بھی تحقیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں تسلیم درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی کی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔

تصور کریں کہ ایک کسان اپنے کھیت میں بیج بوتا ہے۔ بیج زمین کے اندھیروں میں دب جاتا ہے، جہاں نہ روشنی پہنچتی ہے نہ آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے۔ کسان بے صبری سے سوچتا ہے کہ زمین چیر کر دیکھے آیا بیج نے جڑ پکڑی ہے یا ضائع ہو گیا ہے۔ لیکن اگر وہ واقعی ایسا کرے تو زمین کا نظام بگڑ جائے گا اور بیج اپنی فطری نشوونما کھو دے گا۔ کسان کو یقین رکھنا پڑتا ہے کہ قدرت اپنا کام کرے گی، بس اسے اپنی محنت جاری رکھنی ہے۔

یہی اللہ کے فیصلے ہیں۔ وہ بیج کی طرح ہوتے ہیں جو وقت کے اندھیروں میں جڑ پکڑ رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان فیصلوں کو کھودنے کی کوشش کریں تو زندگی کا توازن بگڑ جائے گا۔ اللہ پر بھروسہ رکھنا ضروری ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ہمارے حق میں ہوگا — چاہے اس کا علم ہمیں ابھی نہ ہو۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ تسلیم و تحقیق کا شاہکار نمونہ ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے یوسف کو گم ہوتے دیکھا، برسوں بیت گئے، مگر ان کا یقین اور تسلیم اللہ کی مشیت پر ثابت قدم رہا۔ تحقیق کی کوشش بھی کی، مگر اللہ کے فیصلے پر کبھی سوال نہ اٹھایا۔ آخرکار، اللہ نے ان کے صبر کا ایسا انعام دیا جو انسانی فہم سے ماورا تھا۔
زندگی کا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں حقائق نظر نہیں آتے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ہر وقت نتائج دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ بعض فیصلے زمین کے نیچے چھپے بیج کی مانند ہوتے ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ ہی ظاہر ہونا ہے۔

تسلیم کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ یہ اس اعتماد کا مظہر ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ جب ہم یہ رویہ اپناتے ہیں، تو زندگی کے کئی پیچیدہ سوالات خود بخود بے معنی ہو جاتے ہیں۔ تحقیق دنیا کے لیے کریں، لیکن اللہ کے فیصلے تسلیم کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا کو تسلیم کر لیں اور اللہ کی تحقیق شروع کر دیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top