تنقید: فہم، ذمہ داری اور توازن کا عمل

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ادب کا منصب صرف جمالیاتی یا تخیلاتی اظہار نہیں بلکہ انسانی شعور کی تہذیب اور معاشرتی ارتقاء میں حصہ داری بھی ہے۔ ادب کے اندر سچائی، اخلاقیات، فکری ایمانداری اور انسانی قدروں کا ایک باوقار توازن ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔ تنقید اسی توازن کو سمجھنے، جانچنے اور نکھارنے کا عمل ہے۔ یہ محض خامیوں کی فہرست نہیں، بلکہ ایک فکری مکالمہ ہے جو تخلیق اور قاری کے درمیان پل کا کام دیتا ہے۔
ادب میں تنقید کا مقام ایک مؤرخ، معلم اور مصور جیسا ہے۔ مؤرخ اس لیے کہ وہ ادب کے پس منظر اور سیاق کو مدنظر رکھتا ہے؛ معلم اس لیے کہ وہ قارئین کو شعور اور زاویۂ نظر عطا کرتا ہے؛ اور مصور اس لیے کہ وہ تخلیق کے اندر چھپی تہوں کو اپنے تجربے اور علم سے اجاگر کرتا ہے۔ تنقید صرف رد یا مدح کا نام نہیں، بلکہ وہ داخلی اور خارجی حوالوں سے ادب کی معنویت کو دریافت کرتی ہے۔
نقاد کے لیے لازمی ہے کہ وہ فنی شعور، لسانی گرفت، اور فکری دیانت رکھتا ہو۔ تنقید، تخلیق کے ساتھ ایک گہرے مکالمے کا نام ہے، جس میں دونوں فریقوں — تخلیق اور نقاد — کو احترام کے دائرے میں رہ کر ایک دوسرے کو سننا ہوتا ہے۔ تنقید اگر تعصب، گروہی وابستگی یا ذاتی پسند و ناپسند کا شکار ہو جائے تو وہ ادب کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی۔
ادب کسی نظریہ، مکتب فکر یا رجحان کا پابند نہیں ہوتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تخلیق کار شعوری یا لاشعوری طور پر کسی نہ کسی فکری بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ ادب میں نظریات کی موجودگی فطری ہے، لیکن اگر نظریہ تخلیق پر حاوی ہو جائے اور تخلیق کو محض ایک منشور کا اعلان بنا دے تو وہ ادب کی روح کو محدود کر دیتا ہے۔ ادب نہ تو محض وعظ ہے، نہ اشتہار، اور نہ ہی ذاتی انتشار کا ننگا مظاہرہ۔ وہ ایک تہذیبی جمال ہے جو قاری کے ذہن اور دل دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ادب میں اخلاقیات کا تصور کوئی پسماندہ سوچ نہیں بلکہ انسان کی اجتماعی ذمہ داری کا مظہر ہے۔ ادب کو معاشرتی قدروں کا آئینہ ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی پامالی کا ذریعہ۔ فرد کی آزادی ضرور اہم ہے، لیکن آزادی کا مطلب ذمہ داری سے فرار نہیں ہوتا۔ ادب کو اگر انفرادی بے مہاری کا پلیٹ فارم بنا دیا جائے تو وہ معاشرتی انتشار اور اخلاقی اضمحلال کو جنم دیتا ہے۔
ادب کا وقار تب قائم رہتا ہے جب وہ ایک ایسا آئینہ بنے جس میں فرد بھی اپنے آپ کو پہچانے اور سماج بھی اپنے عکس کو دیکھ سکے۔ اگر یہ آئینہ دھندلا ہو جائے، یا اس میں صرف بدنما عکس دکھائے جائیں تو ادب کی شفافیت اور مقصدیت مجروح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ادب میں ہر نظریہ، رجحان، اور فکر کی جگہ ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ انسانیت، سچائی، اور فکری دیانت کو مقدم رکھے۔
تنقید کو چاہیے کہ وہ ادب کے بدلتے مناظر میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ نہ تو وہ صرف روایتی بیانیوں کی اسیر ہو اور نہ ہی جدید فیشنز کی اندھی پیروی کرے۔ تنقید کو توازن، سچائی اور وسعتِ نظر کے ساتھ تخلیق کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ عمل ادب کو بگاڑنے نہیں، سنوارنے کے لیے ہونا چاہیے۔
آخر میں، ایک مضبوط ادبی معاشرے کی بنیاد صرف اعلیٰ تخلیق ہی نہیں بلکہ باشعور، باکردار اور فہمیدہ نقادوں پر بھی ہوتی ہے، جو نہ صرف لفظوں کی صورت گری پر نظر رکھتے ہیں بلکہ ان کے اثرات، حوالہ جات اور پیغام کو بھی پوری سنجیدگی سے سمجھتے ہیں۔ یہی تنقید کی اصل روح ہے — کہ وہ ادب کو بہتر بنائے، نہ کہ محض بلند آواز میں خود کو ثابت کرنے کی دوڑ بن جائے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top