(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان اس دنیا میں ایک ایسی متحرک کشمکش کے ساتھ زندہ ہے، جو اسے دو بڑی قوتوں کے درمیان معلق رکھتی ہے۔ ایک وہ قوت جو ازل سے لکھی جا چکی ہے، جسے ہم تقدیر کہتے ہیں، اور دوسری وہ جو ہر لمحہ انسان کے شعور سے جنم لیتی ہے، جسے ہم اختیار کا نام دیتے ہیں۔ یہی وہ شعوری لمس ہے جو انسان کو محض ایک متحرک کٹھ پتلی بننے سے بچاتا ہے۔ اگر ہر چیز مقدر میں لکھی جا چکی ہے اور انسان کا کردار محض ایک فلمی اسکرپٹ کے مطابق ہونا ہے، تو پھر دعا کا کیا مطلب؟ توبہ کا کیا اثر؟ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی مسلسل دعوت و محنت کی معنویت کہاں باقی رہتی؟ کیا وہ صرف ایک ظاہری سرگرمی تھی یا ربّ کی ازلی حکمت کے تحت انسان کو ذمہ داری، اختیار، اور قربِ الٰہی کی منزلوں کی طرف بلانے کا حقیقی فریضہ؟
قرآن کریم اس ازلی تحریر کی حقیقت کو ان الفاظ میں واضح کرتا ہے:
“کُلُّ شَیْءٍ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ“
(یٰس: 12)
یعنی “ہر چیز ایک روشن کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔”
یہ “کتابِ مبین” کائنات کی ہر حرکت، ہر ممکنہ نتیجے، اور ہر نفَس کی سمت کو اپنے علمِ کامل میں لیے ہوئے ہے۔ یہ علم، جو صرف خالقِ ازل کے پاس ہے، اُس کے احاطۂ علم کا مظہر ہے، نہ کہ انسان کے اختیار کو ختم کرنے والا کوئی فیصلہ کن جبری قید خانہ۔ اس میں ہر ممکن راستہ موجود ہے، مگر یہ بات بھی اسی الٰہی کتاب میں لکھ دی گئی ہے کہ انسان کو ایک محدود اختیار دیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ ان راستوں میں سے اپنا انتخاب کرے گا۔
اختیار کوئی محض تکنیکی یا عقلی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ بھی ہے۔ انسان جب کسی نازک موڑ پر پہنچتا ہے، جہاں اسے دو یا زیادہ راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو، تو وہ محض عقل و شعور سے نہیں، بلکہ دعا، وجدان، فہمِ باطن، سابقہ تجربات، اور دل کی خاموش آواز سے بھی رہنمائی لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تقدیر کی خاموش دیواروں پر انسان اپنی مرضی کی دستک دیتا ہے۔ اگر یہ دستک اخلاص سے ہو، تو وہ دروازے کھل جاتے ہیں جو ازل سے بند نظر آتے تھے، اور یہی انتخاب، جو بظاہر انسان کا فیصلہ ہوتا ہے، ازلی تحریر کا ظہور بن جاتا ہے۔
تصور کیجیے کہ ایک دریا مسلسل بہہ رہا ہے۔ یہ دریا تقدیر ہے—ایک جاری و ساری حقیقت، جس کی روانی، کنارے، رخ اور رفتار پہلے سے طے شدہ ہیں۔ مگر اس دریا میں ایک کشتی بھی ہے، اور اس میں چپو انسان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چپو اس کے اختیار، اس کی نیت، اس کی دعا اور اس کی کوشش ہیں۔ اگر وہ محنت کرے، سمت کا انتخاب کرے، اور حالات کو سمجھے، تو وہ اپنی کشتی کو صحیح کنارے کی طرف موڑ سکتا ہے، چاہے دریا کی روانی اس کے حق میں ہو یا خلاف۔ یوں انسان، ازل کی تحریر کا ایک باشعور کردار بن جاتا ہے، محض مجبوری کا پرزہ نہیں۔
صوفیاء کرام اس حقیقت کو نہایت لطیف پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق:
“ازل میں سب کچھ لکھ دیا گیا ہے، مگر وہ قلم تمہارے دل کی سیاہی سے ہر لمحہ نیا لفظ لکھتا ہے۔”
یعنی ازلی نوشتۂ تقدیر ربّ کے علم کا اعلان ہے، نہ کہ تمہارے عمل کا انکار۔ وہ جانتا ہے کہ تم کیا کرو گے، مگر اُس کا علم تمہاری سعی، نیت، یا ارادے کا بدل نہیں، بلکہ اُس کا احاطہ ہے۔ استاد کو علم ہوتا ہے کہ کون سا شاگرد امتحان میں کیا کرے گا، مگر شاگرد کو نہیں۔ اسی لیے وہ اپنی سعی، خوف، امید، اور محنت سے امتحان دیتا ہے۔ اگر وہ یہ سوچ کر بیٹھ جائے کہ استاد کو تو سب پتہ ہے، تو دراصل وہ اپنے ہی مقدر کو ضائع کر رہا ہوتا ہے، اور یہی اس کی اصل ناکامی ہے۔
قرآن اس نکتے کو ایک اور جگہ اس انداز میں بیان کرتا ہے:
“إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ”
(الرعد: 11)
یعنی “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔”
یہ ایک فیصلہ کن اعلان ہے کہ انسان کو تبدیلی، سعی اور حرکت کا موقع دیا گیا ہے۔ اگر وہ اپنے باطن کو بدلے، نیت کو خالص کرے، اور سعی کو مسلسل رکھے، تو وہ تقدیر کے اس پہلو کو ظہور میں لا سکتا ہے، جو اُس کے لیے پہلے سے مقدر تھا مگر صرف اس کی کوشش کے لمس سے ظاہر ہونا تھا۔
تقدیر کو انسان جان تو نہیں سکتا، مگر چھو سکتا ہے—اس کے حجاب کو ہٹا سکتا ہے، اس کی سمت کو محسوس کر سکتا ہے، اس کی تاویل کو اپنی دعا، توبہ، اور رجوع سے قریب لا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں تقدیر، اختیار اور شعور ایک مثلث کی شکل اختیار کرتے ہیں، اور انسان اس مثلث کے مرکز میں کھڑا وہ نقطہ ہوتا ہے جسے ربّ نے “احسنِ تقویم” پر پیدا کیا۔ وہ ہر لمحہ اپنی تقدیر کے ساتھ ایک مکالمے میں مصروف ہوتا ہے — کبھی دعا کے لہجے میں، کبھی آزمائش کے آنسوؤں میں، کبھی توبہ کے سجدے میں، اور کبھی سعی کے خلوص میں۔
یوں تقدیر ایک زنجیر نہیں رہتی، بلکہ ایک خاکہ بن جاتی ہے؛ اختیار ایک بوجھ نہیں، بلکہ روشنی کا چراغ بن جاتا ہے؛ اور شعور کوئی سوال نہیں، بلکہ عبد و ربّ کے تعلق کی کلید بن جاتا ہے۔ اگر انسان ان تینوں کو شعوری سطح پر قبول کر لے، اور اپنی زندگی کو ان کے امتزاج سے ترتیب دے، تو وہ اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں تقدیر اس کے ساتھ چلنے لگتی ہے، نہ کہ وہ تقدیر کے پیچھے بھاگتا ہے۔