(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
یہ کلمات اور خیالات ایک دریا کی طرح گہرے ہوتے ہیں، جو آہستہ آہستہ دل و دماغ کے دریچوں میں بہتے ہیں اور پھر ایک دن ان کا حقیقی اظہار ہوتا ہے۔ یہ تخلیقی عمل ایک طویل سفر ہوتا ہے، جیسے کوئی پھول دنوں یا مہینوں کی محنت کے بعد اپنی پتیوں کو کھولتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس میں خیالات کسی چھپے ہوئے تخیل کی مانند پگھل کر حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ نو ماہ تک تیار ہوتا ہے اور پھر دنیا میں جنم لیتا ہے، ویسے ہی تحریر کئی سالوں تک ذہنوں میں پرورش پاتی ہے، تب جا کر دنیا کی نظر میں آتی ہے۔
انور مسعود صاحب کا قول “کوئی اچھا شعر سنو تو سمجھو کہ کہیں عیسی مصلوب ہوا ہے” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عظمتِ شعر یا تحریر کا عمل اتنا پیچیدہ اور عذاب سے گزرا ہوا ہوتا ہے کہ یہ صرف اس کی تخلیق کرنے والے کی روح کی گہرائیوں سے نکل کر دنیا کے سامنے آتا ہے۔ یہ ایک تخلیقی درد ہے، ایک داخلی قربانی، جس میں شاعر یا لکھاری اپنے جگر کے ٹکڑے نکال کر قارئین کے حوالے کرتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی مصلوبیت ایک بامعنی استعارہ ہے جو اس وقت کی دکھ اور قربانی کو بیان کرتا ہے جب کلمے اور خیالات سچائی کی بلند ترین سطح تک پہنچتے ہیں۔
تحریر کی تخلیق ایک ایسا عمل ہے جس میں دنیا کی ساری خوشی، دکھ، محبت اور درد اکٹھا ہو کر کسی حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔ اس میں جو عذاب ہوتا ہے، وہ اس بات کا غماز ہے کہ تخلیق کا ہر قدم، ہر لفظ، ہر خیال، ایک قربانی کی مانند ہے۔ ہر اچھا شعر، ہر خوبصورت تحریر ایک مکمل روح کی قربانی ہوتی ہے جو زندگی کی حقیقتوں سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، اور یہی وہ سبب ہے کہ جب یہ تخلیقات دنیا کے سامنے آتی ہیں، تو وہ اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ صاحبانِ ذوق کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔
اس آفاقی حقیقت کو سمجھے بغیر تخلیق کا عمل سمجھنا مشکل ہے، کیونکہ تخلیق صرف کاغذ پر الفاظ کا جوڑ نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکل کر ذہنوں میں رسنے والی ایک محبت یا دکھ کی شکل ہوتی ہے جو اپنے وقت پر مکمل ہو کر دنیا کے سامنے آتی ہے۔
اسی طرح، جب ہم کسی تحریر یا شعر کو پڑھتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے پیچھے ایک کرب، ایک درد، اور ایک قربانی چھپی ہوتی ہے جو تخلیق کرنے والا اپنی روح سے گزار کر اسے وجود میں لایا ہے۔ اور یہی حقیقت کسی شعر کی اصل عظمت اور قوت ہے۔
