تہذیبِ درد

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

درد… یہ لفظ جب کاغذ پر اُترتا ہے تو روشنائی میں آنسو آ جاتے ہیں۔ لیکن جو درد روح پر اُترتا ہے، وہ نہ رویا جاتا ہے، نہ سنایا جاتا ہے… صرف جِیا جاتا ہے۔
یہ تحریر اسی جینے کی روداد ہے — نہ کسی ماضی کی مرثیہ گوئی، نہ مستقبل کی امید پرستی — یہ حال کی باطن میں پیوست چیخ ہے، جسے فقط وہی سن سکتا ہے جس نے درد کو تہذیب کی طرح برتا ہو۔
کائنات کی تخلیق سے پہلے، جب فقط “کُن” کا سکوت تھا، تو سب سے پہلا جذبہ جو نور کی دہلیز پر اترا — وہ درد تھا۔ یہی درد تھا جس نے نوری فرشتوں کو جھکایا، اور مٹی کے آدم کو سجدے کی لذت بخشی۔
درد وہ شرارہ ہے جس نے قلبِ عاشق میں خدا کی تلاش روشن کی۔ اسی کی بدولت دھوپ میں سایہ، اور سجدے میں نرمی آئی۔
درد، جب بدن سے نکل کر روح کے آنگن میں پاؤں رکھتا ہے — تو وحشت جنم نہیں لیتی، بلکہ تہذیب جنم لیتی ہے۔
تہذیبِ درد چیخنے، کوسنے، یا ماتم کرنے کا نام نہیں — یہ تو وہ خامشی ہے جو پکار سے بلند ہے۔
یہ وہ ادب ہے جس میں شکایت کی جگہ شکر پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہ سلیقہ ہے جس میں تکلیف بھی ایک نعمت دکھائی دیتی ہے۔
یہ تہذیب سکھاتی ہے کہ: آنسو جب دل سے نکلیں، تو دعائیں بن جاتے ہیں۔ اور دعائیں جب درد سے نکلیں، تو دروازے کھل جاتے ہیں۔
درویش جب ہنستا ہے تو وہ اندر روتا ہے — اور جب روتا ہے، تو عالم ہنستا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ درد دراصل فراقِ وصال ہے، اور وصالِ حق کے راستے کا پہلا زینہ، صرف فراق کے کانٹے چنتا ہے۔
وہ درد جو دنیا والے بیماری سمجھتے ہیں، صوفی اُسے شفا کہتا ہے۔ اور جو درد سے بھاگتے ہیں، وہ فقط وقت کے مارے ہیں… وہ حقیقت کے قائل نہیں۔
دیکھو… شام کیوں حسین لگتی ہے؟ کیونکہ اس میں روشنی مر رہی ہوتی ہے…اور موت کی تہذیب، حُسن بن جاتی ہے جب وہ صبر کے لحاف میں لپٹی ہو۔ ایسے ہی دل بھی حسین ہوتا ہے… جب اس میں درد تہذیب پا لے۔ نہ الزام، نہ انا، نہ شور — بس اک نرم سوز، اک خاموش جلال، اک ایسا سکوت جو صرف اللہ سے بات کرتا ہے۔
وہ انسان جو اس تہذیب میں رنگا جائے، نہ کسی کو دکھ دیتا ہے، نہ کسی سے بدلہ لیتا ہے۔ وہ چپ رہتا ہے… لیکن اس کی خامشی زمین کو ہلا دیتی ہے۔
وہ صبر کرتا ہے… تو آسمان جھک جاتے ہیں۔ اور وہ رو پڑے… تو بارش برس جاتی ہے۔ ایسا انسان وقت سے آگے جیتا ہے، تقدیر سے ہاتھ ملاتا ہے اور اپنے زخموں کو نعمتوں کی طرح گنتا ہے۔
درد… اک بےنام صدا، جو خامشی کے اندر صدیوں سے گونجتی آ رہی ہے۔ کبھی رگوں میں اترتی ہے، کبھی آنکھوں سے بہتی ہے، اور کبھی دل کی دیوار پر اذان کی صورت گونجتی ہے —یہ اذان، نہ فجر کی ہے، نہ مغرب کی… یہ اذانِ باطن ہے — جس میں انسان خود کو پکارتا ہے۔
ہم نے صدیوں تک درد کو صرف روگ سمجھا، حالانکہ وہ ایک ہنر تھا، ایک تہذیب — تہذیبِ درد۔
یہ تہذیب سکھاتی ہے: کہ آنسو بےوقعت نہیں ہوتے، یہ دستخط ہوتے ہیں اُس عہد کے، جو انسان نے اپنے خالق سے خاموشی میں باندھا ہوتا ہے۔
یہ تہذیب کہتی ہے: کہ ٹوٹنا کمزوری نہیں، یہ اس تربیت کا آغاز ہوتا ہے جس میں انا ریزہ ریزہ ہو کر اخلاص میں ڈھلتی ہے۔
درد وہ استاد ہے، جو لفظ نہیں بولتا — لیکن روح کو پڑھنا سکھا دیتا ہے۔
یہ وہ تہذیب ہے، جو چیخنے نہیں دیتی — لیکن اندر ایسا سکوت اُتارتی ہے جس میں انسان اپنے اصل کو پہچانتا ہے۔
درد کو ٹھکرا دینا — وحشت ہے، درد کو پوج لینا — شرک ہے، لیکن درد کو سہہ کر سیکھ جانا — یہی اصل تہذیب ہے، یہی مقامِ قرب ہے، یہی تہذیبِ درد ہے۔
اُس روز جب تمہیں سب چھوڑ دیں گے۔۔۔ اور تم صرف درد کے ساتھ رہ جاؤ گے… تو سمجھ لینا —تم اکیلے نہیں، تم داخل ہو چکے ہو۔۔۔ تہذیبِ درد میں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top