تری تلاش میں خود سے گزر نہ جاؤں میں

غزل

تری تلاش میں خود سے گزر نہ جاؤں میں
دعا کرو کہ ادھورا بکھر نہ جاؤں میں

​وہ موجِ غم ہے کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں
مدد کو آ کہ تلاطم میں گھر نہ جاؤں میں

​یہ دشتِ ہجر ہے اور پاؤں میں ہیں زنجیریں
کہیں تھکن سے یہیں پر ٹھہر نہ جاؤں میں

​وفا کی راہ میں حائل ہیں مصلحت کے حصار
ڈر اس کا ہے کہ کہیں اب مکر نہ جاؤں میں

انا کی ضد میں جلا لی ہیں مشعلیں لیکن
دھواں بنوں تو فضا میں بکھر نہ جاؤں میں

​تری طلب نے سکھایا ہے مجھ کو ضبطِ جنوں
انا کی بھٹی میں جل کر نکھر نہ جاؤں میں

​فریبِ زیست نے گھیرا ہے اس طرح مجھ کو
کہ جیتے جی ہی کہیں اب کے مر نہ جاؤں میں

نعیم! حرفِ حقیقت ہی میرا شیوہ ہے
اسی جنوں میں کہیں دار پر نہ جاؤں میں

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top