(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
سخاوت صرف ہاتھ کھولنے کا نام نہیں، یہ دل کے دروازے وا کرنے کا ہنر ہے۔ اگر سخاوت کو مجسم کیا جائے، تو وہ عورت کی شکل میں نمودار ہوگی—وہ جو بے غرض محبت بانٹتی ہے، عزت کو عطا کرتی ہے، قربانیوں کے چراغ جلاتی ہے، اور پھر بھی اپنی ذات کے اجالے میں کمی نہیں آنے دیتی۔ وہ مسکراہٹوں کے جواہر لٹاتی ہے، خوابوں کے باغ اگاتی ہے، اور اپنے وجود کو ان چراغوں میں پگھلا دیتی ہے جن سے دوسروں کی راہیں روشن ہوں۔
مگر سخاوت کو بھی ایک حصار درکار ہوتا ہے۔ اگر آسمان زمین کو اپنی وسعتوں میں نہ سمیٹے، تو وہ خلا میں بکھر جائے۔ اگر دریا کو کنارے نہ ملیں، تو اس کا بہاؤ راہ گم کر بیٹھے۔ اگر عورت کی سخاوت کو تحفظ کا سایا نصیب نہ ہو، تو اس کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے، اور وہی سخاوت، جو محبت کی بارش تھی، کرب کے زخموں میں بدل جاتی ہے۔
تحفظ صرف جسمانی دیواروں کا نام نہیں، یہ ایک ایسا حصار ہے جو عورت کی روح کو بےخوفی کی وسعت عطا کرتا ہے۔ وہ جو صرف ایک گھر تھا، اگر تحفظ کی مٹی میں پروان چڑھے، تو وطن بن جاتا ہے۔ اگر عورت کو یقین دیا جائے کہ اس کا جذبہ، اس کی ہنسی، اس کی عزت، اور اس کی آزادی محفوظ ہیں، تو وہ محبت کی سلطنت آباد کر دیتی ہے۔ وہ تمہاری زندگی کو معنویت بخشتی ہے، تمہارے خوابوں کو تعبیر کی زمین فراہم کرتی ہے، اور تمہاری حقیقت میں سکون کے رنگ بکھیر دیتی ہے۔
لیکن اگر اس کی بےلوث سخاوت کو کمزوری سمجھ لیا جائے، اگر اس کے جذبات کو بےاعتباری کے جنگل میں دھکیل دیا جائے، اگر اس کی عزت کی سرحدوں پر ظلم کی آندھیاں چھوڑ دی جائیں، تو یاد رکھو—زمین کی بےحرمتی اس کی زرخیزی کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے، اور عورت کی توہین اس کے وجود کو محض ایک بےجان نام میں بدل دیتی ہے۔ جو عورت وطن بن سکتی تھی، وہ ویران بستی میں بدل جاتی ہے۔
عورت کو تحفظ دو، کیونکہ اس کی سخاوت تمہارے ہونے کی دلیل ہے۔ اگر تم نے اس کا دل جیت لیا، تو تم نے صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات کا اعتماد جیت لیا۔ اس کا تحفظ صرف اس کی ضرورت نہیں، بلکہ انسانیت کے وجود کا استحکام ہے۔ عورت وہ روشنی ہے جو محبت، قربانی اور عزت کی راہوں کو منور کرتی ہے—اور روشنی کے لیے ایک مضبوط چراغ ضروری ہے۔
