عمر اور زندگی کا لافانی سفر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی اور عمر دو ایسے الفاظ ہیں جو بظاہر مترادف معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے مفاہیم مختلف اور گہرے ہیں۔ دونوں کا تعلق انسان کے وجود سے ضرور ہے مگر ان کی نوعیت، معنویت اور اثرات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ اگر زندگی کو سمندر کہا جائے تو عمر اس میں گزرتی لہروں کی مانند ہے۔ دونوں کا تعلق قائم ہے مگر دونوں اپنی فطرت میں مختلف ہیں۔
عمر: وقت کا پیمانہ
عمر وقت کے گزرنے کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ دنوں، مہینوں اور سالوں میں ناپی جاتی ہے۔ کسی انسان کی عمر اس کی پیدائش سے لے کر موجودہ لمحے تک کا وقت ہے۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جو ہر انسان کے لیے یکساں پیمانے پر طے ہوتی ہے۔
عمر کے بدلتے ہندسے زندگی کے جسمانی سفر کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ انسان بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے تک کا سفر طے کرتا ہے۔ اس سفر میں جسمانی طاقت، صحت، اور ظاہری حالات بدلتے رہتے ہیں۔ عمر محدود اور فانی ہے کیونکہ ہر زندگی کا ایک اختتام ہوتا ہے۔

زندگی: ایک معنوی تجربہ
زندگی عمر کے برعکس صرف وقت کا پیمانہ نہیں بلکہ احساسات، تجربات، خوابوں اور جذبات کا ایک کینوس ہے۔ یہ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آپ نے اپنی عمر کیسے گزاری۔ زندگی کا تعلق اس لمحے میں جینے، خواب دیکھنے، محبت کرنے، اور مشکلات کا سامنا کرنے سے ہے۔
زندگی کو معنویت انسان کے فیصلے، اس کی سوچ، اور اس کے اعمال دیتے ہیں۔ یہ فطری نہیں بلکہ تخلیقی عمل ہے جو ہر انسان کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ دو افراد کی عمر ایک جیسی ہو سکتی ہے لیکن ان کی زندگی کے تجربات بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔

عمر اور زندگی کا فلسفیانہ فرق
عمر گزارنا ناگزیر ہے مگر زندگی کو جینا ایک انتخاب ہے۔ عمر آپ کو وقت کی قید میں رکھتی ہے جبکہ زندگی آپ کو اس قید سے آزاد ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ایک شخص بڑھاپے میں بھی خواب دیکھ سکتا ہے، زندگی کے رنگوں میں مگن رہ سکتا ہے اور خود کو جوان محسوس کر سکتا ہے، جبکہ ایک نوجوان اپنی عمر کے ابتدائی سالوں میں ہی زندگی کے جوہر سے محروم ہو سکتا ہے اگر اس میں جینے کا شعور نہ ہو۔

میر تقی میر نے کہا تھا:
“عمر تو کاٹ دی سفر میں میر
زندگی باقی رہی ادھوری سی”
یہ شعر عمر کے گزارے جانے اور زندگی کے مکمل نہ ہونے کا فرق بیان کرتا ہے۔ زندگی کا تعلق محض وقت گزارنے سے نہیں بلکہ وقت کو بامقصد بنانے سے ہے۔

عمر کو ہم روک نہیں سکتے مگر زندگی کو بامعنی بنانا ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی کو محبت، علم، تخلیق، اور خوابوں سے بھر دیں تو عمر محض ایک عدد بن کر رہ جاتی ہے۔ عمر فانی ہو سکتی ہے مگر زندگی کا فلسفہ لافانی ہے کیونکہ یہ انسانی وجود کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top