وجود کا المیہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انفرادیت یا فنا؟

زندگی کے بنیادی سوالات ہمیشہ ہماری انفرادیت، وجود، اور مقصد کی کسوٹی بنتے ہیں۔ ہر انسان اپنی شناخت کے اثبات میں سرگرداں رہتا ہے، لیکن یہ تلاش اکثر ایک ایسے تضاد سے ٹکرا جاتی ہے جو ہمارے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان ایک غیر محسوس لکیر کھینچ دیتا ہے۔ ہم انفرادیت کا جشن مناتے ہیں، مگر بالآخر اسی اجتماعی نظام میں ضم ہو جاتے ہیں جسے ہم نے کبھی اپنے وجود کی راہ میں رکاوٹ سمجھا تھا۔

قطرہ جب دریا میں گرتا ہے، تو وہ اپنی الگ پہچان کھو کر کسی وسیع تر سچائی کا حصہ بن جاتا ہے—یہ فنا نہیں، مگر اپنی انفرادیت سے ایک غیر مشروط دستبرداری ضرور ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جو ہمیں مسلسل الجھائے رکھتا ہے: کیا یہ ارتقا ہے یا ایک غیر محسوس شکست؟ ہم اپنی حقیقت کو تھامنے کی جتنی کوشش کرتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے وہ ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جاتی ہے۔

زندگی ہمیں ایک ایسے دو راہے پر لاکھڑا کرتی ہے جہاں ہم یا تو اپنی اصل کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد میں تھک ہار کر اجتماعی شعور میں ضم ہو جاتے ہیں، یا پھر اپنے وجود کی بقا کے لیے اس نظام کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، اور یوں تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انفرادیت واقعی ایک خواب ہے، یا یہ خواب بھی اسی بڑی حقیقت کے ایک دائرے میں قید ہے؟

شاید اصل المیہ یہی ہے کہ ہم جس حقیقت کی تلاش میں نکلتے ہیں، وہ ہمیں خود سے دور لے جاتی ہے۔ اور جب ہمیں اس کا ادراک ہوتا ہے، تب تک وہ راستہ ماضی کی دھند میں گم ہو چکا ہوتا ہے، اور ہم خود بھی بس ایک کہانی کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں—ایسی کہانی جس کے کردار اکثر اپنی شناخت کے بغیر ہی تاریخ میں دفن ہو جاتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top