وقت کے اُس پار

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

وقت، محض عقربے کی گردش نہیں،
یہ وہ ندی ہے جس میں لمحے تیرتے نہیں — ڈوبتے ہیں۔
ہم جنہیں گُزارا ہوا وقت کہتے ہیں،
وہ دراصل ہماری آنکھوں سے اوجھل وہ جزیرے ہیں
جہاں لمحے اب بھی سانس لیتے ہیں…
مگر خواب بن چکے ہیں۔
وقت کے اِس پار ہم ہوتے ہیں —
جسم، فکر، خواہش، ندامت، فخر، فانی پن۔
لیکن وقت کے اُس پار؟
وہاں صرف وجود کی پرچھائیاں ہوتی ہیں،
ایسی پرچھائیاں جو لفظوں سے ماورا،
احساسات کی دھند میں لپٹی،
خوابوں کی طرح بولتی ہیں —
خاموشی سے۔
وہاں نہ دن ہوتے ہیں نہ رات،
نہ ماضی کی پشیمانی، نہ مستقبل کی فکریں —
وہاں لمحہ لمحے کو دیکھتا ہے
جیسے آئینہ آئینے کو دیکھے
اور دونوں کو اپنی تصویر نظر نہ آئے۔
وقت کے اُس پار،
وہ لمحے بستے ہیں جو کبھی مکمل نہ ہو سکے،
جن کی آدھی سانسیں ہم نے اس دنیا میں لی تھیں
اور باقی سانسیں…
کہیں کائنات کی دھڑکن میں تحلیل ہو گئیں۔
وہاں خوابوں کو کوئی جگانے نہیں آتا،
وہ اپنی آنکھوں میں نیند کا گہرا پیغام لیے
یادوں کی پرچھائیوں پر دستک دیتے ہیں — یہ بتانے کے لیے
کہ خواب ختم نہیں ہوتے،
بس وقت کے اُس پار چلے جاتے ہیں۔
ہر انسان، اپنی ذات میں
وقت کا ایک دروازہ ہے —
کب کھل جائے، کب بند ہو جائے،
نہ ہم جانتے ہیں نہ چاہ سکتے ہیں۔
لیکن جب وہ دروازہ کھلتا ہے،
تو ہم اپنے سائے سے آگے نکل جاتے ہیں،
اور وہ دیکھتے ہیں جو صرف
خاموش آنکھوں والے خواب دیکھ سکتے ہیں۔
وقت کے اُس پار
منزلیں نہیں ہوتیں —
صرف مسافتیں ہوتی ہیں،
اور ان مسافتوں میں
خود کو کھو دینا ہی
سب سے بڑی دریافت ہوتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top