(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وقت ایک بے رحم سنگتراش ہے، جو ہماری یادوں کو تراشتا، بگاڑتا اور کبھی بےنشان کر دیتا ہے۔ مگر اس کے ہاتھ میں چُھری دو دھاری ہے—ہم جسے فراموش کرنا چاہتے ہیں، وہی ہمارے اندر زندہ رہتا ہے۔
یادداشت ایک زخم کی مانند ہے، جو جتنا مٹانے کی کوشش کرو، اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے۔ ہم لمحوں کو دفن کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر وہ خاک سے نکل کر پھر ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، جیسے خزاں کے بکھرے پتوں میں دبی چنگاری، جو ہوا کے ذرا سے لمس سے دہک اٹھتی ہے۔
ہم زندگی کے بعض باب بند کرنا چاہتے ہیں، مگر وقت کی کتاب میں کوئی صفحہ واقعی کبھی نہیں پھٹتا۔ ہم جن چہروں کو بھول جانا چاہتے ہیں، وہ ہماری پلکوں کے کناروں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ جن آوازوں کو خاموش کرنا چاہتے ہیں، وہ خوابوں میں سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں۔
یہی المیہ ہے—ہم یادداشت کو اختیار نہیں کر سکتے، وہ ہمیں اختیار کر لیتی ہے۔ اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا ستم ہے کہ ہم ان چیزوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، جنہیں ہم بھلانا چاہتے ہیں
