یخ بستہ یادیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

وقت موسموں کی طرح بدلتا ہے، مگر کچھ سردیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اندر ٹھہر جاتی ہیں۔ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کے درختوں سے جھڑ کر مٹی میں دفن نہیں ہوتے، بلکہ برف کی طرح جم جاتے ہیں—چمکدار، سرد، اور ہمیشہ باقی رہنے والے۔

یہی وہ یادیں ہوتی ہیں جو دو دھاری تلوار کی طرح ہوتی ہیں۔ جو گرم یادیں تھیں، وہ بھی سرد ہو جاتی ہیں، اور جو پہلے ہی یخ بستہ تھیں، وہ برف کے نوکیلے گالے بن کر روح میں اتر جاتی ہیں۔ انسان اپنے ماضی کو ہاتھوں میں پکڑ کر پگھلانے کی کوشش کرتا ہے، مگر جتنی سختی سے مٹھی بند کرتا ہے، اتنی ہی تیزی سے وہ پھسل جاتا ہے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یادیں وقت کے ساتھ تحلیل ہو جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ یادیں موسم کی طرح نہیں بدلتیں، وہ برفانی چوٹیوں کی مانند ہوتی ہیں—خاموش، لاتبدیل، اور ہمیشہ قائم رہنے والی۔ وہ پہاڑوں کی طرح اونچی ہوتی ہیں، جہاں جذبات کی سانسیں گھٹنے لگتی ہیں، اور برفانی طوفانوں کی طرح سفاک ہوتی ہیں، جو دل کی زمین پر کچھ بھی زرخیز نہیں چھوڑتیں۔

انسان دو طرح کی سردیوں میں جیتا ہے—ایک وہ جو باہر ہوتی ہے، اور ایک وہ جو اندر بسیرا کر لیتی ہے۔ باہر کی سردی میں آگ جلائی جا سکتی ہے، مگر اندر کی سردی میں کوئی شعلہ کارگر نہیں ہوتا۔ یہ سردی روح میں بسیرا کر لیتی ہے، سوچوں میں جم جاتی ہے، اور آنکھوں میں ایک برفانی چمک چھوڑ جاتی ہے، جسے دیکھ کر لوگ کبھی حیران ہوتے ہیں، کبھی خوفزدہ۔

یہی المیہ ہے—سردیاں ان کے لیے بھی بے رحم ہوتی ہیں، جن کے پاس گرم یادیں نہیں، اور ان کے لیے بھی جو ان یادوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ کیونکہ برف جب ایک بار جم جائے، تو یا تو وہ ہمیشہ قائم رہتی ہے، یا پھر پگھل کر خاموشی سے بہہ جاتی ہے—مگر دونوں صورتوں میں انسان کو اندر سے خالی کر جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top