زندگی ایک راز

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک ایسا راز ہے جو ہر لمحہ خود کو مختلف رنگوں میں ظاہر کرتا ہے، مگر ہم اسے سمجھنے کے بجائے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نے زندگی کو سوالوں، مقصدوں، اور منزلوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے اور پھر حیرانی ہوتی ہے کہ خوشی کیوں مفقود ہو گئی۔ حالانکہ زندگی نہ کوئی معمہ ہے اور نہ ہی کوئی مسئلہ۔ یہ تو ایک شاعری ہے، ایک رقص ہے جو ہر لمحے نیا رخ لے کر آتا ہے۔
ہم بچپن سے سیکھتے ہیں کہ زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے، ایک ایسی منزل جسے پانے کے بعد ہم کامیاب کہلائیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ مقصد ہی ہماری سب سے بڑی قید بن جاتا ہے؟ ہم اپنے وجود کو خوابوں اور خواہشوں کی دوڑ میں محدود کر دیتے ہیں، ایک ایسی دوڑ جس کا اختتام کبھی نہیں ہوتا۔ جب ہم ایک خواب پورا کرتے ہیں تو فوراً ایک اور خواب ہمارا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ خوشی ہمیشہ آگے کے لمحے میں رکھی جاتی ہے، اور حال کا لمحہ نظرانداز ہو جاتا ہے۔

لیکن زندگی کی اصل خوبصورتی ان منزلوں میں نہیں بلکہ اس سفر میں چھپی ہے۔ زندگی ایک ندی کی مانند ہے جو بغیر کسی روک کے بہتی رہتی ہے، نہ کسی خاص راستے کی فکر کرتی ہے اور نہ کسی منزل کی۔ یہ اپنی مرضی سے بہنے کا فن جانتی ہے، اور ہمیں بھی یہی سکھانا چاہتی ہے۔ اگر ہم زندگی کو قابو کرنے کی کوشش چھوڑ کر اس کے بہاؤ کے ساتھ بہنا سیکھ لیں، تو ہم وہ سکون حاصل کر سکتے ہیں جس کی تلاش میں ہم بھٹکتے رہتے ہیں۔

زندگی دماغ سے نہیں، دل سے جیتی جاتی ہے۔ دماغ ہمیں سوالات دیتا ہے، شکوک پیدا کرتا ہے، اور نقصان و فائدے کے ترازو میں ہر عمل کو تولتا ہے۔ مگر دل ہمیں اعتماد سکھاتا ہے، محبت کی زبان سمجھاتا ہے، اور بے لوث ہونے کا درس دیتا ہے۔ دماغ شک پیدا کرتا ہے، جبکہ دل یقین دیتا ہے۔ اور زندگی کو جینے کے لیے یقین کی ضرورت ہے، شک کی نہیں۔

زندگی کو شاعری کی طرح محسوس کریں۔ جب آپ کوئی خوبصورت نظم سنتے ہیں، تو کیا آپ ہر لفظ کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ نہیں۔ آپ اس کی موسیقی میں بہتے ہیں، اس کے جذبات کو محسوس کرتے ہیں۔ زندگی بھی ایک ایسی شاعری ہے، ایک گیت ہے، جسے سمجھنے کی بجائے محسوس کرنا چاہیے۔

یہ دنیا ایک کھلی کتاب کی مانند ہے، جہاں ہر درخت، ہر پتہ، سورج کی ہر کرن، ہوا کی ہر لہر زندگی کے رازوں کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن ہم اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں اور ان رازوں کو دیکھ نہیں پاتے۔ کیونکہ ہم نے خود کو دماغ کے سانچے میں قید کر لیا ہے، جبکہ یہ راز صرف دل کے ذریعے سمجھ میں آتے ہیں۔

زندگی ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ ہر لمحہ ایک تحفہ ہے۔ چاہے وہ لمحہ خوشیوں سے بھرا ہو یا آزمائشوں سے، وہ ہمیں کچھ نہ کچھ سکھانے کے لیے آیا ہے۔ جب ہم ان تحفوں کو قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں، تو زندگی ہمیں اپنی اصل خوبصورتی دکھانا شروع کر دیتی ہے۔

زندگی کو قابو کرنے کی کوشش چھوڑ دیں۔ اسے آزاد چھوڑیں، اس کے بہاؤ میں بہیں، اور ہر لمحے کو ایسے جئیں جیسے یہ زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ ہو۔ جب آپ زندگی کو مکمل طور پر قبول کر لیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ خوشی کسی منزل میں نہیں، بلکہ آپ کے اندر ہی موجود ہے۔

زندگی ایک رقص ہے، ایک محبت بھری کہانی ہے، ایک راز ہے جسے جیا جانا چاہیے۔ یہ نہ کسی وضاحت کی محتاج ہے اور نہ کسی مقصد کی قید میں رہنے کی۔ زندگی کا احترام کریں، اس سے محبت کریں، اور اسے ایک آزاد پرندے کی طرح جینے دیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہے، آپ کے اندر خوشی اور سکون بھر سکتی ہے، اور آپ کو حقیقت میں آزاد کر سکتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top