(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہیں ہسپتال کے دروازے پر تڑپتا مریض ہے، تو کہیں دوا کے بغیر دم توڑتی امید۔ کہیں ایک غریب عورت ایمرجنسی میں داخل ہونے کے انتظار میں زندگی کی بازی ہار جاتی ہے، تو کہیں کسی بوڑھے باپ کی آنکھوں کے سامنے اس کا بیٹا صرف اس لیے مر جاتا ہے کہ علاج کے پیسے نہیں۔ پاکستان میں صحت ایک بنیادی حق نہیں، بلکہ ایک ایسی سہولت ہے جو صرف ان کے لیے ہے جو اسے خرید سکتے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ وہاں علاج کے بجائے بیماری بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر کم، دوائیاں نایاب، بستر محدود، اور مریض بے شمار۔ جو بھی سرکاری ہسپتال جاتا ہے، وہ جانتا ہے کہ یہاں شفا کم، اذیت زیادہ ہے۔ دوسری طرف، پرائیویٹ ہسپتال کاروبار بن چکے ہیں، جہاں بیماری ایک منافع بخش صنعت ہے۔ یہاں علاج نہیں، پیسہ دیکھا جاتا ہے—اگر پیسہ ہے تو زندگی بچ سکتی ہے، ورنہ موت آپ کا مقدر ہے۔
ایک مزدور جو دن رات محنت کرتا ہے، اگر اس کا بچہ بیمار پڑ جائے تو وہ یا تو علاج کروا سکتا ہے یا گھر چلا سکتا ہے—دونوں چیزیں ممکن نہیں۔ دوا کی دکان پر وہ اس امید کے ساتھ جاتا ہے کہ کوئی سستی دوا مل جائے، مگر قیمتیں سن کر اس کی امیدیں بھی بیمار پڑ جاتی ہیں۔ دوسری طرف، وہ اشرافیہ جو بیرونِ ملک علاج کرواتی ہے، اسے یہاں کے اسپتالوں کی بدحالی کا اندازہ تک نہیں۔
یہاں علاج کے لیے پیسے سے زیادہ تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک غریب مریض چاہے کتنی ہی سنگین حالت میں ہو، اگر اس کے پاس کوئی سفارش نہیں تو وہ انتظار کی قطار میں کھڑا رہتا ہے—کبھی کسی آکسیجن سیلنڈر کے بغیر، کبھی کسی ایمبولینس کے انتظار میں، اور کبھی کسی ایسی دوا کے لیے جو کبھی آئے گی ہی نہیں۔
کیا صحت کا حق صرف امیروں کے لیے ہے؟ کیا زندگی کی قیمت بینک بیلنس سے لگائی جائے گی؟ اگر ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں صحت کے نظام کو منافع بخش کاروبار سے نکال کر عوامی فلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ ورنہ ہر دن کسی نہ کسی دروازے پر زندگی کی بھیک مانگتی مائیں، بے بسی میں مرتے باپ، اور علاج کے بغیر دم توڑتے بچے ہمیں آئینہ دکھاتے رہیں گے۔
