(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کیا جینا محض سانس لینے کا نام ہے؟ اگر ایسا ہوتا، تو درخت بھی زندہ ہوتے، اور بہتے پانی کو بھی حیات کہا جاتا۔ مگر زندگی کچھ اور ہے—یہ محض وجود کا تسلسل نہیں بلکہ شعور کی وہ لہر ہے جو ہمیں لمحۂ موجود سے باندھتی ہے۔
کبھی غور کیا کہ انسان صدیوں سے آتا اور جاتا رہا، مگر کتنے نام وقت کی دھول میں گم ہو گئے؟ تاریخ نے کن کو یاد رکھا؟ وہ جو بس جیے، یا وہ جنہوں نے زندگی کے معنی دریافت کیے؟ اصل زندگی وہی ہے جو مقصد سے جڑی ہو، جو محض وقت کا بوجھ نہ ہو، بلکہ روشنی کی ایک کرن ہو جو تاریکی میں راستہ دکھائے۔
ہم میں سے اکثر محض چلتی گھڑیوں کی ٹک ٹک میں عمر گزار دیتے ہیں، جیسے دریا کے کنارے کوئی کاغذ بے سمت بہتا رہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم زندہ ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کیسے جی رہے ہیں؟ اگر ہماری زندگی ایک ایسی کہانی ہے جسے دوبارہ جینے کی خواہش نہ ہو، تو کیا وہ زندگی کہلانے کے لائق ہے؟
حقیقی زندگی وہ ہے جو لمحوں میں نہیں، احساس میں ناپی جائے۔ جو شعور کی آگ میں پگھل کر خود کو نیا قالب دے۔ جو وقت کے ہاتھوں فنا ہونے سے پہلے خود کو امر کر دے۔ جو جینے کے فن کو سیکھے، نہ کہ صرف سانس لینے کے عمل کو دہراتی رہے۔
