زندگی کا حقیقی میدان

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی کی سب سے بڑی جنگ میدانوں میں نہیں، بلکہ انسان کے دل اور دماغ کے درمیان لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ کبھی نہ ختم ہونے والی ایک کشمکش ہے، جس میں دل خواب دیکھتا ہے، امیدیں بُنتا ہے، محبت کے رنگ بھرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دماغ شک کی تیر اندازی کرتا ہے، خدشات کی دیواریں کھڑی کرتا ہے اور حقیقت کی تلخیاں یاد دلاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان یا تو خوابوں کی سرزمین میں گم ہو جاتا ہے یا شک کے صحرا میں بھٹک جاتا ہے۔

جب دل خوابوں کا دیپ جلاتا ہے تو دماغ اُسے بجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب دماغ حقیقت کا آئینہ دکھاتا ہے تو دل اس پر پردے ڈالنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ مگر زندگی کا حقیقی کمال ان دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں ہے۔ دل کو خواب دیکھنے دیں مگر دماغ کو اُن خوابوں کی رہنمائی کرنے دیں۔ دماغ کو حقائق بیان کرنے دیں مگر دل کو اُن حقائق کو محبت سے قبول کرنے دیں۔
یہی وہ داخلی جنگ ہے جس میں انسان یا تو اپنی کمزوریوں سے ہار جاتا ہے یا پھر حوصلے اور حکمت سے جیت جاتا ہے۔ سب سے بڑی فتح خود پر قابو پانے میں ہے۔ اپنے جذبات کو سمجھنے، اپنی خامیوں کو قبول کرنے، اور اپنی خوبیوں کو نکھارنے میں ہی انسان اپنی اصل پہچان حاصل کرتا ہے۔

اس جنگ میں دل اور دماغ دونوں کو اپنا مقام دینا ضروری ہے۔ دل انسان کو احساس، محبت اور امید کی طاقت دیتا ہے، جبکہ دماغ اسے حکمت، بصیرت اور احتیاط کا راستہ دکھاتا ہے۔ دونوں کے بغیر زندگی نہ مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی بامعنی۔

زندگی کی اصل کامیابی اسی فلسفے میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی ذات کو پہچانیں، اپنی کمزوریوں کو قبول کریں، اور اپنی اندرونی روشنی تلاش کریں۔ یہ روشنی نہ صرف ہمارے دل و دماغ کے اندھیروں کو شکست دیتی ہے بلکہ ہمیں ایک بامعنی اور مکمل زندگی گزارنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔

اس جنگ کو جیتنے کے لیے ہمیں خود سے جنگ نہیں، بلکہ خود کو تسخیر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ فتح ہے جو نہ صرف ہماری ذات کو نکھارتی ہے بلکہ ہماری دنیا کو بھی بہتر بناتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top