“زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا”
آس کے دیپ اندھیروں میں جلائے رکھنا
اس کو پانا تو مقدر کی لکیروں میں نہیں
خواب ہی بن کے اسے جی میں بسائے رکھنا
خار چننے کی ضرورت نہیں ہو گی تمہیں
راہِ الفت میں فقط پلکیں بچھائے رکھنا
ہو نہ جائے کہیں رسوا یہ محبت کا بھرم
درد کو اپنے کلیجے میں چھپائے رکھنا
وقت بدلے گا، یہ صدمے بھی گزر جائیں گے
بس لبوں پر وہی مسکان سجائے رکھنا
آئے گا وہ بھی کبھی لوٹ کے واپس اے نعیم
حوصلہ اپنی امیدوں کا بڑھائے رکھنا
