(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
واقعۂ کربلا تاریخ کے اوراق پر لکھا گیا کوئی معمولی سانحہ نہیں، بلکہ یہ وہ آتشیں باب ہے جس کے حروف روشنائی سے نہیں، ان مقدس ہستیوں کے لہو سے رقم ہوئے جو حق کی حرمت پر اپنی ہستی نچھاور کرنے کو بندگی کی معراج سمجھتے تھے۔ یہ دو لشکروں کی جنگ نہ تھی، بلکہ دو تہذیبوں، دو فکری نظاموں اور دو اخلاقی جہانوں کا تصادم تھا؛ ایک طرف زر، زور اور ملوکیت کا متکبر جبر کھڑا تھا، اور دوسری جانب ایک تنہا قافلہ تھا جس کے پاس نہ فوجی قوت تھی، نہ ساز و سامان کی فراوانی، مگر اس کے پاس وہ یقین تھا جو آسمانوں کو جھکا دیتا ہے اور وہ صداقت تھی جو صدیوں کے اندھیروں میں بھی چراغ بن کر جلتی رہتی ہے۔
نواسۂ رسول، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام مدینے سے اس لیے نہیں نکلے تھے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اپنی جگہ بنائیں؛ وہ اس لیے اٹھے تھے کہ امتِ محمدی کے ضمیر کو ملوکیت کے زہر آلود پنجوں سے آزاد کرائیں۔ وہ جانتے تھے کہ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب دین کے چراغ کو زندہ رکھنے کے لیے خون کو تیل بنانا پڑتا ہے، جب سچائی کی بقا کے لیے گردنیں کٹتی ہیں مگر سر جھکتے نہیں، اور جب حریت کی قیمت اپنے گھر کے چراغ بجھا کر ادا کرنا پڑتی ہے۔
کربلا کی سرزمین پر عسکری توازن نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ایک طرف ہزاروں کا لشکر تھا اور دوسری جانب چند نفوسِ قدسیہ، مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ معرکے ہتھیار نہیں جیتتے، بلکہ یقین، استقامت اور مقصد کی پاکیزگی جیتتی ہے۔ فرات کے کنارے بہنے والا وہ مقدس لہو دراصل انسانیت کی رگوں میں دوڑنے والی آزادی کی نئی روح تھا۔ کربلا نے اعلان کر دیا کہ جب دین کی کشتی گرداب میں ہو تو جان، مال، اولاد، سہاگ، بھائی، بیٹے اور خواہشات سب کو قربان گاہِ حق پر پیش کر دینا ہی اسوۂ حسینی کا تقاضا ہے۔
اس تحریک کا سب سے حیرت انگیز اور روح فرسا پہلو یہ تھا کہ یہ صرف مردوں کی جنگ نہ تھی؛ یہ پورے خانوادۂ نبوت کا اجتماعی جہاد تھا۔ اس میں بوڑھے اصحاب بھی تھے جن کے چہروں پر تجربے کی روشنی تھی، جوان بھی تھے جن کی رگوں میں وفا بجلی بن کر دوڑ رہی تھی، اور چھ ماہ کا ایک پیاسا معصوم بھی تھا جس کے ننھے گلے پر لگا تیر قیامت تک کے ظالموں کے چہروں پر ایک ابدی طمانچہ بن گیا۔ لیکن اگر کربلا کی تپتی ریت پر حسینؑ نے اپنے لہو سے جہادِ اصغر کی انتہا رقم کی، تو مخدراتِ عصمت نے اسیری کی زنجیروں میں جہادِ اکبر کا آغاز کیا۔ اگر حسینؑ نے میدان میں سر دے کر دین کو زندگی بخشی، تو زینبؑ نے درباروں میں زبان کھول کر اس زندگی کو دوام بخشا۔
کربلا کی مائیں اور بہنیں نسوانی عظمت کا وہ فلک ہیں جہاں ایثار اپنے تمام استعارے بدل دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے سہاگوں کو خاک و خون میں تڑپتا دیکھا، اپنے جگر گوشوں کو پیاس سے نڈھال پایا، اپنے خیموں کو جلتے ہوئے دیکھا، مگر ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو بھی رضا کے موتی بن گئے۔ جنابِ ربابؑ نے اپنے شش ماہہ اصغرؑ کو یوں پیش کیا گویا ماں اپنی سب سے قیمتی متاع خدا کے حضور رکھ رہی ہو، اور ام البنینؑ کے بیٹوں نے عباسِ علمدارؑ کی قیادت میں وفاداری کو ایسا وقار بخشا کہ رہتی دنیا تک ایثار ان کے نام سے پہچانا جائے گا۔ ان ماؤں نے ثابت کیا کہ جب حق قربانی مانگے تو ممتا رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ رضائے الٰہی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔
پھر شامِ غریباں اتری؛ ایک ایسا غروبِ آفتاب جس کے سائے آج تک انسانی دلوں پر لرزتے ہیں۔ خیمے جل چکے تھے، لاشیں بے کفن پڑی تھیں، سر نیزوں پر بلند تھے اور اہلِ بیت زنجیروں میں جکڑے جا چکے تھے۔ بظاہر معرکہ ختم ہو گیا تھا، مگر درحقیقت تاریخ کے عظیم ترین فکری معرکے کا آغاز ہو رہا تھا۔ اب قیادت ثانیِ زہرا حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے ہاتھ میں تھی۔ آپؑ نے جلتے خیموں کی راکھ سے پیغامِ کربلا کو اٹھایا، اسے اپنی استقامت کی چادر میں لپیٹا اور کوفہ و شام کے بازاروں سے ہوتے ہوئے رہتی دنیا کے ضمیر تک پہنچا دیا۔
حضرت زینبؑ اور حضرت ام کلثومؑ کے خطبات صرف الفاظ نہ تھے؛ وہ سچائی کے شہابِ ثاقب تھے جو ملوکیت کے اندھیروں کو چیرتے چلے گئے۔ ان کے لہجے میں حیدری جلال تھا، ان کے بیان میں زہرائی فصاحت کی مہک تھی اور ان کی نگاہوں میں وہ وقار تھا جس نے تختِ یزید کو لرزا دیا۔ ان اسیر خواتین نے ثابت کر دیا کہ زنجیریں ہاتھوں کو قید کر سکتی ہیں، آواز کو نہیں؛ سر سے چادر چھین سکتی ہیں، وقار نہیں؛ جسم کو قید کر سکتی ہیں، مگر حق کے پیغام کو کبھی اسیر نہیں بنا سکتیں۔
دربارِ یزید میں حضرت زینبؑ کا یہ اعلان کہ “تو ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکتا” دراصل تاریخ کے ماتھے پر لکھی گئی وہ ابدی سچائی ہے کہ حق کی آواز کو نیزوں سے دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب آزادی کا نام لیا جاتا ہے تو حسینؑ یاد آتے ہیں، جب استقامت کی مثال دی جاتی ہے تو زینبؑ سامنے آتی ہیں، اور جب ضمیر کو جگانے کی ضرورت پڑتی ہے تو کربلا کی تپتی ریت سے ایک صدا ابھرتی ہے:
سر کٹ سکتے ہیں، مگر حق کے سامنے جھک نہیں سکتے؛
خیمے جل سکتے ہیں، مگر صداقت کے چراغ بجھ نہیں سکتے؛
اور اسیری آ سکتی ہے، مگر حریت کی روح کبھی قید نہیں ہو سکتی۔
