زندگی کا سب سے خوبصورت میک اپ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

عمر کا بھی اپنا ایک سلیقہ ہوتا ہے۔ وہ انسان سے خاموشی سے بہت سی غیر ضروری چیزیں واپس لے لیتی ہے، مگر بدلے میں چند ایسی نعمتیں دے دیتی ہے جن کی قیمت جوانی میں سمجھ نہیں آتی۔
ایک وقت تھا جب خوشی کا معیار یہ تھا کہ لباس کی شکن نہ ہو، بال اپنی جگہ ہوں اور تصویر میں مسکراہٹ متوازن آئے۔ پھر وقت نے آہستہ آہستہ ترازو بدل دیا۔ اب دل کی خواہشیں چہرے کے گرد نہیں، جسم کے اندر گردش کرتی ہیں۔ اب انسان آئینے سے کم اور اپنے وجود سے زیادہ گفتگو کرتا ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا استاد وقت ہے۔ وہ کسی درس گاہ میں لیکچر نہیں دیتا، صرف برسوں کو انسان کے وجود پر سے گزار دیتا ہے، اور پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں پر کبھی گھنٹوں صرف ہوتے تھے، آج ان پر ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ ترجیحات کا یہ انقلاب کسی کتاب سے نہیں، زندگی سے پڑھایا جاتا ہے۔
عجیب بات ہے، جوانی میں ہم عمر بڑھنے سے ڈرتے ہیں، مگر حقیقت میں عمر نہیں بڑھتی، بصیرت بڑھتی ہے۔ انسان سمجھنے لگتا ہے کہ چہرے پر ایک جھری شاید وقت کی لکھی ہوئی نظم ہے، مگر جسم کے اندر بکھرتا ہوا توازن ایک خاموش المیہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب نظر آئینے سے پہلے اپنے حال پر جاتی ہے۔
پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ خوبصورتی دراصل چہرے کی نہیں، چلتے قدموں کی ہوتی ہے؛ وہ سانس جو بےمشقت آئے، وہ نیند جو بےفکر ہو، وہ صبح جو درد کے بغیر طلوع ہو، اور وہ شام جو شکر کے ساتھ ڈھل جائے۔ یہی زندگی کے اصل رنگ ہیں، باقی سب آرائشیں ہیں۔
پھر زندگی ایک اور حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ میڈیکل لیبارٹری کے باہر انتظار کی وہ چند گھڑیاں شاید زندگی کی سب سے طویل گھڑیاں ہوتی ہیں۔ دل اپنی رفتار سے زیادہ تیز دھڑکنے لگتا ہے، سانس جیسے کسی انجانے فیصلے کے انتظار میں ٹھہر سی جاتی ہے، اور لبوں پر بےاختیار ایک ہی دعا ہوتی ہے: “اے اللہ! سب کچھ نارمل ہو۔” پھر جب ڈاکٹر مسکرا کر کہتا ہے، “سب رپورٹس بالکل نارمل ہیں، فکر کی کوئی بات نہیں،” تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی نے دوبارہ رنگ اوڑھ لیے ہوں۔ اس ایک جملے کے بعد نہ آئینہ اہم رہتا ہے، نہ عمر، نہ جھریاں، نہ سفید بال۔ انسان کو لگتا ہے کہ آج اس سے زیادہ خوبصورت، خوش قسمت اور آسودہ کوئی نہیں۔ لیکن اگر رپورٹ میں کسی ایک عدد کے ساتھ سرخ نشان نمودار ہو جائے تو چہرے کی ساری رونق، خود اعتمادی کی تمام چمک اور ظاہری آرائش کی پوری دنیا یکایک ماند پڑ جاتی ہے۔ تب سمجھ آتا ہے کہ حسن چہرے پر نہیں، عافیت کے اندر کھلتا ہے، اور صحت وہ واحد سنگھار ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر زیبائش اپنی کشش کھو دیتی ہے۔
اب اگر صبح بغیر تکلیف کے اٹھ جائیں، چند قدم آسانی سے چل لیں، ہنسی بےساختہ لبوں پر آ جائے، اور دل کسی غیر محسوس خوف کے بغیر دھڑکتا رہے، تو یہی سب سے کامیاب تصویر ہے۔ ایسی تصویر جسے کسی فلٹر، کسی روشنی اور کسی تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عمر کے آخری موسموں میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ صحت دراصل اللہ کی وہ خاموش نعمت ہے جس کا شور صرف اس وقت سنائی دیتا ہے جب وہ کم ہونے لگتی ہے۔ جب تک جسم خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے، ہم اسے معمول سمجھتے رہتے ہیں؛ اور جب وہ ذرا سا احتجاج کرتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی سب سے قیمتی آسائش وہی تھی جسے ہم نے کبھی نعمت سمجھ کر گنا ہی نہیں تھا۔
آخرکار عمر انسان کو یہ راز سکھا دیتی ہے کہ چہرے کی تازگی چند برس کی مہمان ہے، مگر جسم کی عافیت، دل کا اطمینان، ذہن کی آسودگی اور روح کا شکر وہ حسن ہے جو انسان کے پورے وجود کو منور کر دیتا ہے۔
اس لیے اب دعا صرف اتنی ہے کہ زندگی کے آئندہ صفحات پر رنگ کم بھی ہوں تو کوئی بات نہیں، مگر صحت، سکون، عافیت اور شکر کے لفظ کبھی مدھم نہ پڑیں۔ یہی وہ میک اَپ ہے جو نہ دھلتا ہے، نہ پرانا ہوتا ہے، نہ کسی برانڈ کا محتاج ہوتا ہے، اور نہ کبھی فیشن سے باہر جاتا ہے۔ یہی وہ حسن ہے جو چہرے پر نہیں، زندگی پر سجتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top